Al-Risala · December 2003 · page 84

چند تاریخی مثالیں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۸۴

میں آپ نے انہیں اے لوگو (ايها الناس، اتقوا النار ولو بشق تمرة) کے لفظ سے خطاب کیا۔ اسی طرح مدینہ کے باہر ملک کے اطراف میں بہت سے غیر مسلم قبیلے موجود تھے۔ مگر اُن کو بھی کافرانِ عرب یا کافر قبائل کا نام نہیں دیا گیا۔ بلکہ اُن کے معروف نام سے انہیں پکارا گیا۔ مثلاً اہلِ سقیف، اہلِ نجران، اہلِ بحرین، وغیرہ۔

تاریخ بتاتی ہے کہ دورِ اول میں اہلِ اسلام جب عرب سے نکل کر ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں داخل ہوئے تو یہاں مختلف مذہب کے ماننے والے لوگ آباد تھے۔ دورِ اول کے مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا کہ ان غیر مسلموں کو کافر کے نام سے پکاریں۔ انہوں نے ہر ایک کو اُس کے اپنے اختیار کردہ نام سے پکارا۔ مثلاً شام کے مسیحیوں کو مسیحی کہا، فلسطین کے یہودیوں کو یہودی کہا، ایران کے مجوسیوں کو مجوسی کہا، افغانستان کے بودھوں کو بودھ (بوذا) کہا، وغیرہ۔

اسی طرح دورِ اول کے یہ مسلمان جب ہندوستان آئے تو یہاں بھی انہوں نے یہی کیا۔ انہوں نے یہاں کے لوگوں کو ہند و کہا جو سندھو کا عربی تلفظ ہے۔ ابو الریحَان البیرونی (وفات ۱۰۴۸ء) نے ہندوستان کا سفر کیا۔ اُس نے سنسکرت زبان سیکھی اور ہندوستان کے بارہ میں ایک عربی کتاب تاریخ الہند لکھی۔ اُس میں وہ یہاں کے غیر مسلموں کو ہند و کہتا ہے، نہ کہ کافرانِ ہند۔ ہزار سال سے زیادہ مدت تک یہی رواج باقی رہا۔ اب بھی کثرت سے ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ بقیہ دنیا میں یہی رواج بالفعل قائم ہے۔ مسلمان امریکا اور یورپ کے مختلف ملکوں میں آباد ہیں۔ وہاں اُن کا سابقہ غیر مسلم قوموں سے پڑتا ہے۔ مگر ہر ایک کو وہ اُن کے اپنے اختیار کردہ نام سے پکارتے ہیں، وہ اُنہیں کافر یا کفار نہیں کہتے۔

چند تاریخی مثالیں

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، قرآن میں ایھا الکافرون کے انداز میں خطاب کی مثال صرف منکرینِ مکہ کے لیے آئی ہے اور وہ بھی تیرہ سال کے پیغمبرانہ اتمام حجت کے بعد۔ منکرینِ مکہ کے سوا کسی اور کو اس مشخص انداز میں خطاب نہیں کیا گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues

Printed page