Al-Risala · December 2003 · page 85

چند تاریخی مثالیں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۸۵

پیغمبر اسلام ﷺ نے جب مکہ میں دعوت کا آغاز کیا تو ابتدائی دور میں آپ نے اس طرح خطاب نہیں کیا کہ یا ایہا الکفار۔ بلکہ قرآن میں یہ آیت اتری: یا ایہا الانسان ما غرك بربک الکریم۔ ہجرت کے بعد صحیفہ مدینہ کا ایک جملہ یہ تھا : للیہود دینہم وللمسلمین دینہم۔ ایسا نہیں ہوا کہ یہ لکھا جائے کہ للکفار دینہم وللمسلمین دینہم فتح مکہ کے بعد عرب کے مشرک قبائل کے وفود رسول اللہ سے گفت وشنید کے لیے مدینہ آئے۔ مگر یہاں بھی خطاب کا انداز یہی تھا : مثلاً یمن کے لوگ مدینہ آئے تو آپ نے فرمایا کہ : اتاکم اہل الیمن۔ اس کے بجائے آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اتاکم کفار الیمن۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے اطراف عرب کے حکمرانوں کو دعوتی مکاتیب روانہ کیے تو اُن کا انداز بھی یہی تھا۔ مثلاً آپ نے رومی حکمران کو جو خط لکھا اُس کا پہلا جملہ یہ تھا: من محمد بن عبد الله الى هرقل عظیم الروم۔ اس کے بجائے آپ نے یہ نہیں لکھا کہ الی هرقل کافر الروم۔ حجۃ الوداع کے خطبہ میں آپ نے صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ان الله بعثنى كافة للناس فآدّوا عنی۔ اس میں بھی آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ ان الله بعثنى كافة للكفار ۔ حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں صحابہ کی فوج ایران میں داخل ہوئی تو روایات کے مطابق، وہاں ایران کے غیر مسلم حکمراں کو خطاب کرتے ہوئے ایک صحابی نے اپنے آنے کا مقصد بتاتے ہوئے کہا: لنخرج العباد من عبادة العباد الى عبادة الله ۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا کہ یہ کہیں کہ لنخرج الکفار من عبادة الكفار الى عبادة الله۔ اس طرح دورِ اوّل کے مسلمان جب عرب سے نکل کر بیرونی ملکوں میں پھیلے تو کسی بھی ملک میں انہوں نے لوگوں کو کافر یا کفار کے الفاظ سے خطاب نہیں کیا بلکہ ہر قوم کو اُسی لفظ سے خطاب کیا جس لفظ کو اُس نے خود اختیار کر رکھا تھا۔ مثلاً مسیحی کو مسیحی، یہود کو یہود، مجوس کو مجوس، بَودھ کو بَودھ، وغیرہ۔ کافر کا تحقق اُس وقت ہوتا ہے جب کہ متعلقہ شخص کے اوپر کامل اتمام حجت کیا جا چکا ہو اور اس اتمام حجت کا ماڈل صرف ایک ہے۔ اور وہ پیغمبر اسلام کے دور میں مکہ کی تیرہ سالہ دعوتی جدوجہد ہے۔ یہ تیرہ سالہ دعوتی عمل ہمیشہ کے لیے دعوت یا اتمام حجت کے ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ اتمامِ حجت

‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues

Printed page