Al-Risala · December 2003 · page 87

دارالدعوه

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۸۷

کے لیے۔ مزید یہ کہ اس بات کا تحقق کہ کسی کے اندر صفت انکار ہے یا نہیں، قیاس کی بنیاد پر نہیں ہوگا، بلکہ حقیقی تجربہ کی بنیاد پر ہوگا۔ اور وہ تجربہ یہ ہے کہ پیغمبر کی سطح پر کم از کم تیرہ سال تک اعلیٰ ترین معیار کی دعوتی جدوجہد چلائی جائے۔ اس کے بغیر خود پیغمبر کے زمانہ میں بھی کسی کو کافر کہنا درست نہیں۔ مناظرہ برصغیر ہند میں برٹش حکومت کے زمانہ میں اہل اسلام کے درمیان یک مبتدعانہ رواج ظہور میں آیا جس کو مناظرہ کہا جاتا ہے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دعوت کے بجائے مناظرہ بازی شروع ہوئی جس نے دونوں فرقوں کے درمیان غیر معتدل فضا پیدا کرنے کا کام کیا۔ مسلمان مناظر نے ہندو کے خلاف کتاب لکھی اور اُس کو کفر توڑ کے نام سے شائع کیا۔ اس کے بعد ہندو مناظر نے مسلمانوں کے خلاف کتاب لکھی جو کفر توڑ کا بھانڈہ پھوڑ کے نام سے شائع کی گئی۔ اسلام کا طریقہ دعوت ہے نصح (خیر خواہی) اور شفقت اور ایک طرفہ صبر کے اصول پر جاری ہوتا ہے۔ جب کہ مناظرہ (debate) کا مقصد فریق ثانی کو شکست دینا ہوتا ہے۔ مناظر کا نشانہ فریق ثانی کو ہرانا ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ اس قسم کی زبان بولتا ہے کہ اُن کے اوپر بلڈوزر چلا دو: Bulldoze them all. اس سے دونوں گروہوں کے درمیان نفرت اور کشیدگی پیدا ہوتی ہے جو طرح طرح کے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔

دارالدعوه

دار الکفر یا بلاد الكفار کے الفاظ عباسی دور میں استعمال کیے گیے۔ اس سے پہلے یہ اصطلاحیں اہل اسلام کے درمیان رائج نہ تھیں۔ میرے نزدیک یہ اضافہ درست نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ جو ملک اسلامی ملک ہو اُس کو دارالاسلام کہا جائے اور بقیہ تمام ملکوں کو دار الدعوہ کہا جائے۔ دار الاسلام کے سوا ہر ملک دار الدعوہ ہے، خواہ وہ مسلمانوں کے حق میں بظاہر دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کی نسبت سے ارشاد ہوا ہے: وهذا كتاب انزلنه مبرک

‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues

Printed page