دارالدعوه
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۸۸
مصدق الذی بین یدیہ ولتنذر ام القری ومن حولہا (الانعام ۹۳)۔ یعنی یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے اُتاری ہے، برکت والی ہے، تصدیق کرنے والی اُن کی جو اس سے پہلے ہیں۔ اور تا کہ تو ڈرائے اُم القریٰ کو اور اِس کے آس پاس والوں کو۔
قرآن کی اس آیت میں ام القریٰ سے مراد مکہ ہے۔ جب یہ آیت اُتری، اُس وقت مکہ غیرمسلموں کے قبضہ میں تھا۔ حتیٰ کہ کعبہ کو بتوں کا مرکز بنا دیا گیا تھا۔ مگر اس آیت میں قدیم مکہ کو دار الكفر یا مدینۃ الكفر نہیں کہا گیا بلکہ اُم القریٰ کہا گیا اور وہاں انذار، بالفاظ دیگر، دعوت کا حکم دیا گیا۔ اس سے مستنبط ہوتا ہے کہ وہ تمام مقامات جہاں غیر مسلموں کا غلبہ ہو وہ اسلامی اصطلاح میں دار الدعوہ یا دار الانذار قرار پائیں گے۔ ایسے کسی بھی مقام کے لیے دار الكفر یا بلاد الكفار جیسے الفاظ کا استعمال درست نہ ہوگا۔
كسی ملك كا حوالہ جب جغرافی اعتبار سے دینا ہو تو اُس کا ذكر اُس نام سے كیا جائے گا جِس نام سے وہ عمومی طور پر معروف ہے۔ مثلاً سری لنکا کو سری لنکا اور جنوبی کوریا کو جنوبی کوریا۔ اور جب اہلِ اسلام کی ذمہ داری کے اعتبار سے کسی ملک کا حوالہ دینا ہو تو اُس کو دار الدعوہ کہا جائے گا۔ دار الدعوہ کا لفظ جغرافی تقسیم کو نہیں بتاتا بلکہ وہ اہلِ اسلام کی دعوتی ذمہ داری کو بتاتا ہے۔ ہے، مگر اس میں ۶ ارکان ہیں جو اس کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues