Al-Risala · December 2003 · page 90

یک خط

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۹۰

تمہیں بھی ایک دن اپنی موت سے دوچار ہونا ہے۔

یہ یاددہانی کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ سوتے ہوئے انسان کو جگانے کے ہم معنی ہے۔ یہ غیر متحرک لوگوں کو حرکت میں لانے کا ذریعہ ہے۔ یہ اس بات کی یاددہانی ہے کہ اے لوگو، اب وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ بھر پور طور پر استعمال کرو، اس سے پہلے کہ اپنے وقت کو استعمال کرنے کا موقع ہی ختم ہو جائے۔

قرآن کے مطابق، موت ہر پیدا ہونے والے کے لیے مقدر ہے۔ موت بلاشبہ ہر انسان کے لیے سب سے بڑا حادثہ ہے۔ مگر خدا نے حیرت انگیز طور پر اس کو ہمارے لیے رحمت کا سبب بنا دیا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جب موت کا تجربہ پیش آئے تو پسماندگان کو چاہئے کہ وہ صبر کا طریقہ اختیار کریں۔ صبر کرنے والوں کے لیے عظیم انعام کی بشارت ہے۔

اس طرح کے معاملہ میں صبر کرنا کیوں خدائی انعام کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ صبر دراصل خدا کے فیصلہ پر راضی ہونے کے ہم معنی ہے۔ بلاشبہ کسی بندہ کے لیے یہ سب سے بڑی سعادت ہے کہ خدا اس کے لیے ایک ناپسندیدہ چیز کا فیصلہ کرے اور وہ اُس خدا کی طرف سے سمجھ کر اُس پر دل سے راضی ہو جائے۔ اس قسم کی موت اپنے پسماندگان کے لیے اسی عظیم خدائی انعام کا ذریعہ ہے۔

یہ بھی خدا کی ایک عجیب رحمت ہے کہ جانے والا تو چلا گیا۔ اُس کو اپنے مقرر وقت پر جانا ہی تھا۔ مگر اس واقعہ میں خدا نے اپنی رحمت سے یہ نا قابل بیان حد تک قیمتی پہلو رکھ دیا کہ پسماندگان اگر اُس کو خدائی فیصلہ سمجھ کر اُس پر راضی ہو جائیں تو خدا ان کی اس رضامندی کی اس طرح قدر دانی کرے گا کہ جو چیز انہوں نے کھوئی ہے وہ مزید اضافہ کے ساتھ انہیں واپس مل جائے۔ موت کا واقعہ بظاہر ایک حادثہ ہے مگر اس دنیا میں ہر مائنس کے ساتھ پلس موجود ہوتا ہے۔ اور بلاشبہ موت کا واقعہ اس عام قانون سے مستثنیٰ نہیں۔

نئی دہلی ۲۳ اگست ۲۰۰۳ دعا گو وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues

Printed page