کیرلا کا سفر
الرسالہ، فروری ۲۰۰۳
فلائٹ نمبر ۷ ۱۶ کے اندر میں بیٹھا ہوا تھا۔ ابھی جہاز ائیر پورٹ پر کھڑا تھا۔ جہاز کے اندر لوگ آتے اور جاتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ ہر ایک اپنی سیٹ تک پہنچنے کے لیے سرگرم تھا۔ اس درمیان میں ایک آدمی کا بیگ دوسرے آدمی سے ٹکرا گیا۔ پیچھے والے نے کہا: sorry، دوسرے نے کہا: no problem، اور بات ختم ہو گئی۔ یہ پڑھے لکھے لوگوں کا کلچر ہے۔ اس کے برعکس بے پڑھے لکھے لوگوں کا کلچر یہ ہے کہ ایسے موقع پر ایک شخص کہے گا’’ اندھے ہو‘‘ دوسرا بولے گا’’ گدھے ہو‘‘۔ اور پھر دونوں ایک دوسرے سے لڑنے لگیں گے۔ ہر آدمی کے لیے سب سے پہلی اہم چیز یہ ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرے۔ مگر عجیب بات ہے کہ ہندوستان میں یہی چیز سب سے کم ہے۔ نئے ہندوستان کی تمام خرابیوں کی جڑ ہماری قوم کا تعلیم میں پچھڑا ہوا ہونا ہے۔
۱۹۴۷ سے پہلے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص نے مہاتما گاندھی سے کہا کہ آپ پہلے لوگوں کو شکچھا دلائیے۔ اس کے بعد آزادی لائیے۔ ورنہ آزادی آپ کے لیے بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ گاندھی جی نے جواب دیا کہ میرے دیش کے لوگ شکچھت ہیں مگر وہ اگیانی نہیں ہیں۔ لیکن تجربہ نے بتایا کہ شکچھت لوگ ہمیشہ اگیانی ہی ہوتے ہیں۔
جہاز کے اندر ایک صاحب نے اپنی جیب سے سیلولر ٹیلی فون نکالا اور ایک لمحہ میں ربط قائم کر کے باہر کسی سے بات کرنے لگے۔ اس وقت ایک عجیب احساس میرے دل میں پیدا ہوا۔ میرے سامنے پوری جدید دنیا اپنی تمام ترقیوں کے ساتھ گھوم گئی۔ میں نے سوچا کہ یہ تمام ترقیاں زمین کے اندر چھپی ہوئی تھیں۔ غیر معمولی کوشش سے جن لوگوں نے ان امکانات کو باہر نکالا اور ان کو قابلِ استعمال بنایا وہ سب کی سب مغربی قومیں تھیں۔ اس کے بعد قدرتی طور پر ایسا ہوا کہ وہ دنیا کے تمام مواقع پر قابض ہو گئیں۔ ایک شخص کے الفاظ میں وہ تمام دنیا کا مکھن کھا گئے ۔ مسلمان پچھلے سوسال سے بھی زیادہ عرصہ سے ان قوموں سے ان کی یہ حیثیت چھیننے کے لیے قربانی کی حد تک جا کر کوشش کر رہے ہیں، مگر وہ صد فی صد نا کام ہیں۔
میں نے سوچا کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے، قانون فطرت کے تحت ہو رہا ہے۔ وہ ان تمام مادی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues