Al-Risala · February 2003 · page

کیرلا کا سفر

الرسالہ، فروری ۲۰۰۳

ترقیوں کو وجود میں لائے ہیں اس لئے قانون فطرت کے مطابق، وہ طیبات دنیا کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ قرآن کے مطابق، آخرت میں ایسے لوگوں کو کچھ ملنے والا نہیں ہے (الاحقاف ۲۰)۔ ہمارے نام نہاد انقلابی مفکرین نے یہ چاہا کہ وہ انہیں ان طیبات دنیا سے محروم کر دیں۔ ایسا ہونا ممکن نہ تھا۔ مسلمانوں کو کچھ کئے بغیر دونوں دنیا کی طیبات حاصل ہو جائیں اور ان مادی قوموں کو ساری محنت کے باجود دنیا کی طیبات بھی نہ ملیں، ایسا ہونا خود قانون الہی کے تحت ممکن نہ تھا۔ اس لیے مسلم رہنماؤں کی کوششیں حبط اعمال کا شکار ہو کر رہ گئیں۔

اس معاملہ کی ایک علامتی مثال فلسطین ہے۔ مسلمان سیکڑوں سال سے اس علاقہ پر قابض تھے۔ مگر وہ فلسطین کو وہ مادی ترقی نہ دے سکے جو یہودیوں نے اس کو دی۔ اب یہ کیسے ممکن تھا کہ مسلمانوں کو نفع بخشی کے بغیر سب کچھ مل جائے اور یہودیوں کو نفع بخشی کے باوجود کچھ نہ ملے۔ ۲۸ فروری ۱۹۹۹ کی دوپہر کو جہاز ٹریونڈ رم پہنچا۔ یہاں ٹمپریچر ۳۱ ڈگری سنٹی گریڈ تھا جب کہ ۳۵ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتے ہوئے جہاز کا درجہ حرارت زیرو سے بھی نیچے تھا۔ جو لوگ بلند فکری کے حامل ہوں وہ ہمیشہ ٹھنڈے مزاج کے ہوتے ہیں اور جو پست ذہن ہوں وہ گرم مزاج کے۔ ۲۸ فروری کی دوپہر کو ساڑھے گیارہ بجے جب میں ٹریونڈ رم پہنچا تو یہاں بڑی تعداد میں لوگ ائرپورٹ پر موجود تھے، ڈاکٹر گوپی ناتھن، پروفیسر کریم، وغیرہ۔ ائرپورٹ سے روانہ ہو کر آشرم پہنچا۔ کیرلا بے حد سر سبز ریاست ہے۔ سڑک کے دونوں طرف باغ جیسے مناظر ہیں۔ اس سرسبز ماحول میں ۲۰ کلو میٹر کا سفر طے کر کے ہم لوگ آشرم پہنچے۔ سادگی اور امن کا ماحول تھا۔ ہر طرف روحانیت جیسی فضا تھی۔ کیرلا کے لوگ بہت سادہ مزاج ہوتے ہیں۔ ان میں منافقت والی برائی نہیں ۔ وہ پر امن شہری کی مثال نظر آتے ہیں۔ یہاں کے خوبصورت گسٹ ہاؤس میں مجھے ٹھہرایا گیا تھا۔ چاروں طرف سر سبز ماحول تھا۔ یہاں بہت سے لوگ ملے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، اعلیٰ عہدیدار اور بڑے تاجر سب یکساں طور پر بالکل سادہ نظر آتے تھے۔ تعارف سے پہلے کوئی پہچان نہیں سکتا کہ وہ کوئی بڑے آدمی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues

Printed page