Al-Risala · February 2003 · page

It is now closed down because of labour problem.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۳

کے دشمن بن گئے تھے۔ وہ اسلام پر حملے کرتے تھے۔ ان میں سے کچھ مشرکین نے مدینہ آنا چاہا۔ اس پر بعض مسلمانوں کو اختلاف ہوا۔ اس وقت قرآن میں یہ آیت اتری کہ اگر مشرکین میں سے کوئی تمہارے یہاں آنا چاہے تو اس کو آنے دو... (التوبہ ۶)

یکم مارچ کی دوپہر کو میری تقریر تھی۔ مجھ کو پیس اور ہارمنی کا موضوع دیا گیا تھا۔ میں نے انگریزی میں ایک تقریر کی۔ اس میں قرآن اور حدیث کے حوالہ سے بتایا کہ اسلام امن اور محبت اور انسانیت کا مذہب ہے۔ خدا نے جو مذہب عالم کا ئنات میں قائم کیا ہے اُسی کو اس نے قرآن کی صورت میں بھیجا ہے۔

Peaceful co-existence is the only religion for both man and the universe. یکم مارچ کو جلسہ گاہ سے نکل کر رہائش گاہ کی طرف جانا تھا۔ کار لا کر کھڑی کی گئی۔ اس وقت میرے پاؤں میں جوتا نہیں تھا۔ میں نے کہا کہ میں پیدل جاؤں گا۔ اور کار چھوڑ کر رہائش گاہ کی طرف پیدل روانہ ہوا۔ راستہ میں سنگریزے تھے۔ مگر مجھے ان سنگریزوں میں ایک قسم کا نیچرل ٹچ (لمس فطری) محسوس ہو رہا تھا۔ چنانچہ میں ننگے پاؤں اس پر چلتا رہا۔ ایک ساتھی نے کہا کہ آپ ان سنگریزوں پر ننگے پاؤں چل رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ نیچرل کارپٹ ہے اور مصنوعی کارپٹ سے زیادہ بہتر ہے۔ میں نے کہا کہ یہ سنگریزے مجھے پھول جیسے معلوم ہوتے ہیں: These stones are like flowers. یہ بات میں نے نیچر کی حیثیت سے کہی تھی، نہ کہ آشرم کی نسبت سے۔ اب کوئی خوش عقیدہ آدمی اس کو آشرم سے جوڑ دے تو وہ کہے گا کہ دیکھو، فلاں مسلم مولانا اس آشرم میں آئے تھے۔ ان کو یہاں کے سنگریزے تک پھول کے روپ میں دکھائی دیے۔ میرا خیال ہے کہ بزرگوں کے بارے میں کرامات قصے اسی طرح بنے ہیں۔

بزرگوں کی کرامات کی جو طلسماتی کہانیاں مسلمانوں میں مشہور ہیں، ٹھیک اُسی قسم کی کہانیاں ہندوؤں میں بھی مزید اضافہ کے ساتھ مشہور ہیں۔ مسلمان ان کہانیوں کو اپنے بزرگوں کی عظمت کی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues

Printed page