Al-Risala · February 2003 · page

It is now closed down because of labour problem.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۳

دلیل سمجھتے ہیں۔ اگر یہ دلیل صحیح ہو تو اسی دلیل سے انہیں ہندوؤں کے اکابر کو بھی طلسماتی شخصیت کا حامل ماننا چاہئے۔ ذاتی طور پر میں دونوں ہی طرح کے قصوں کو بے اصل سمجھتا ہوں۔ اگر وہ فرضی ہیں تب تو ان کا بے اصل ہونا واضح ہے۔ تاہم اگر وہ بالفرض درست ہوں تب بھی وہ کسی شخص کی عظمت کا ثبوت نہیں۔

شانتی گری آشرم کا رقبہ بہت بڑا ہے۔ دور دور تک درخت اور سبزہ کا ماحول ہے۔ یہاں انسانوں کی آوازیں بہت کم سنائی دیتی ہیں، البتہ چڑیوں کی آوازیں اکثر کانوں میں آتی ہیں۔ میں نے سوچا کہ دہلی میں لاؤڈ اسپیکر سے بلند ہونے والی انسانی آواز مجھے سخت ناپسند ہوتی ہے۔ پھر چڑیوں کی آوازیں کیوں مجھ کو پسند ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ انسانوں کی آواز میں سرکشی کا لہجہ ہوتا ہے جب کہ چڑیاں ہمیشہ خدا کی حمد کے نغمے گاتی ہیں۔

شانتی گری آشرم کے گرو کی عمر ابھی ۷۲ سال ہے۔ مگر وہ کافی کمزور ہو گئے ہیں۔ وہ زیادہ تر اپنے بستر پر لیٹے ہوئے رہتے ہیں۔ وہ جلسہ گاہ میں آئے تو وہاں بھی تھوڑی دیر سہارا لے کر بیٹھنے کے بعد لیٹ گئے ۔ وہ دو آدمیوں کا سہارا لے کر مشکل سے چلتے ہیں۔ میں ان کے مخصوص کمرہ میں اُن سے ملا تو وہ اس وقت فرش پر اپنے بستر کے اوپر لیٹے ہوئے تھے۔ اسی لیٹے ہوئے حالت میں انہوں نے مجھے ایک نارنگی پیش کی۔ میں اس وقت ان کے قریب کھڑا ہوا تھا۔ نارنگی لینے کے لیے قدرتی طور پر مجھے کچھ جھکنا پڑا۔

ایک فوٹوگرافر نے اس وقت کی تصویر کھینچ لی۔ بعد کو اس نے تصویر دکھائی تو اس میں سنترا تو دکھائی نہیں دیتا تھا البتہ یہ نظر آتا تھا کہ میں گرو جی کے سامنے جھکا ہوا ہوں۔ میں نے فوٹوگرافر سے کہا کہ اس تصویر کو آپ ضائع کر دیجئے۔ ورنہ اگر ہماری’’ زرد صحافت‘‘ نے اس کو پا لیا تو مزید رنگ آمیزی کر کے اس کو چھاپے گی جس کے نیچے لکھا ہوا ہوگا’’ ایک مسلمان عالم ایک ہندو گرو کے آگے جھکا ہوا‘‘۔ (۶ مئی ۱۹۹۹ کو گرو جی کا انتقال ہو گیا)۔

گرو جی مورتی پوجا کو نہیں مانتے۔ حتیٰ کہ میں نے آشرم کے مختلف حصوں کو دیکھا تو کہیں خود

‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues

Printed page