Al-Risala · February 2003 · page

Here the traffic is well-disciplined.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۳

ایک صاحب نے بتایا کہ مجھ پر جن سوار تھا۔ وہ اس مقصد کے لیے یہاں آئے۔ وہ آدمی جرمنی میں تھا۔ اس کا بھائی جرمنی آیا، اس کے اوپر جن سوار تھا۔ بھائی وہاں آیا اور گرو سے کہا۔ گرو نے یہیں سے دھیان کر کے جن کو ہٹا دیا۔

میرا خیال ہے کہ ہندو گرو اور مسلمان بزرگ دونوں کے یہاں جو بھیڑ ہوتی ہے اُس کا سبب مشترک طور پر ’’برکت‘‘ کا پراسرار تصور ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ بزرگ یا گرو کی برکت سے میرا فلاں مسئلہ حل ہو جائے گا۔ بہت سے لوگ بتاتے ہیں کہ ان کا مسئلہ حل ہو گیا۔ ایسا واقعہ ہمیشہ اتفاقی ہوتا ہے۔ یعنی ایک ہونے والے واقعے کو غلط طور پر کسی گرو یا بزرگ سے منسوب کر دینا۔ یہ عین وہی چیز ہے جس کو سائنس میں لا آف چانس کہا جاتا ہے۔

ٹریونڈرم سے انڈین ائر لائنز کی فلائٹ کے ذریعہ ٹریونڈرم سے بمبئی کے لئے ساڑھے چار بجے روانگی ہوئی ۔ جہاز جب بلند ہو کر فضا میں اُڑنے لگا تو مجھے ایک عجیب خیال آیا۔ جہاز زمین پر کھڑا ہو تو وہ کھڑا رہ سکتا ہے۔ مگر جب اُڑ رہا ہو تو اس کو مسلسل حرکت میں اڑتے رہنا ہے۔ وہ سفر کے دوران کہیں مقام نہیں کر سکتا۔ یہ زمینی سفر اور فضائی سفر کے درمیان فرق کا معاملہ ہے۔ یہی معاملہ زندگی کے سفر کا بھی ہے۔ زندگی کے سفر میں آپ ٹھہر نہیں سکتے۔ اگر ٹھہرے تو اس کے بعد جو چیز آپ کے حصہ میں آئے گی وہ سفر کو کھونا ہوگا، نہ کہ سفر کا جاری رہنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues

Printed page