حیدرآباد کا سفر
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
حیدرآباد کا سفر
حیدر آباد میں ۷۔ ۸ دسمبر ۲۰۰۲ کو تھنکرس میٹ (Thinkers’ Meet) کے نام سے ایک سیمینار ہوا۔ اس کا اہتمام وگیان بھارتی مہارشی بھاردواج سوسائٹی اے ۔ پی کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر راقم الحروف نے اس میںشرکت کی۔ ۷ دسمبر کی صبح کو میں حیدر آباد پہنچا اور ۱۱ دسمبر ۲۰۰۲ کو میری واپسی ہوئی۔ دہلی سے حیدر آباد کے لیے یہ سفر ۷ دسمبر ۲۰۰۲ کی صبح کو انڈین ایرلائنز کے ذریعہ ہوا۔ ایر پورٹ پر کوئی خاص قابل ذکر واقعہ پیش نہیں آیا۔ البتہ سفر کے دوران یہ احساس ہوا کہ انڈین ایرلائنز میں پچھلے ایک سال کے اندر کئی چیزوں میں بہتری آئی ہے۔ مثلاً پہلے کے مقابلہ میں اب جہاز وقت پر روانہ ہونے لگے ہیں۔ اسی طرح کئی اور چیزوں میں پہلے کے مقابلہ میں فرق نظر آیا۔ یہ فرق یا تو ہوائی پرواز میں کمپetição کی وجہ سے ہو یا وہ موجودہ نوجوان وزیر ہوابازی کا کارنامہ ہو۔ دہلی سے حیدر آباد کے لیے دو گھنٹے کا سفر تھا۔ اس دوران مختلف اخبارات کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ دہلی اور حیدر آباد کے سفر کے دوران انڈین ایرلائنز کا فلائٹ میگزین سواگت دیکھا۔ یہ اُس کا شمارہ دسمبر ۲۰۰۲ تھا۔ اس میں مختلف سفری دلچسپی کے مضامین تھے۔ اس میں ایک مضمون چائے (tea) کے بارے میں تھا۔ اس کے مضمون نگار کا نام سُجاتا پانڈے (Sujata Pandey) تھا۔ موضوع سے متعلق مختلف معلومات دیتے ہوئے اُس میں بتایا گیا تھا کہ چائے میں اگرچہ کیلوریز (calories) نہیں ہوتیں مگر دودھ والی چائے کے اندر کئی مفید اجزاء، خاص طور پر کچھ منرل (minerals) شامل ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ چائے کے ذریعہ ہمیں بڑی مقدار میں فلورائڈ (fluoride) حاصل ہوتا ہے۔ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ برابر چائے لینے والے لوگ بوسیدہ دانت (carious teeth) کا شکار ہوتے ہیں۔ مشہور مقولہ ہے کہ:
An apple a day keeps the doctor away.
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues