One verse a day keeps the Satan away.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
دوگھنٹہ کی پرواز کے بعد ۷ دسمبر کو صبح ۹ بجے ہمارا جہاز حیدرآباد ایرپورٹ پر اُتر گیا۔ پوراسفر بالکل ہموار (smooth) طور پر طے ہوا۔ ہوائی جہاز کا سفر ہوا کے تابع ہوتا ہے۔ ہوا اگر پرسکون ہے تو سفر بھی پرسکون ہوگا اور ہوا میں اگر اضطراب ہے تو سفر میں بھی اضطراب کی حالت جاری رہے گی۔ انسان ہوائی جہاز بنا سکتا ہے مگر انسان کو ہوا کے اوپر کوئی قدرت نہیں۔ اسی مثال سے جبر و اختیار کے معاملہ کو سمجھا جاسکتاہے۔ ہوا کی مثال انسان کی مجبوری کو بتاتی ہے اور ہوائی جہاز کی مثال انسان کے اختیار کو۔ اس دنیا میں انسان کا معاملہ بین بین کا معاملہ ہے۔ یعنی انسان ایک اعتبار سے مجبور ہے اور دوسرے اعتبار سے با اختیار۔
حیدرآباد ایرپورٹ پر ڈاکٹر شیزان صاحب اور مولا نا عمر عابدین صاحب موجود تھے۔ کانفرنس والوں نے یہاں میرے قیام کا انتظام ٹولپ منوہر ہوٹل میں کیا تھا جو ایرپورٹ سے قریب ہے۔ ایرپورٹ پر ہوٹل کا ایک نمائندہ موجود تھا۔ اُس نے اپنی گاڑی میں بٹھا کر ہم لوگوں کو ہوٹل میں پہنچایا۔ یہاں میرا قیام ہوٹل کے کمرہ نمبر ۲۱۱ میں تھا۔
ڈاکٹر شیزان صاحب اور مولا نا عمر عابدین صاحب سے تفصیلی گفتگو ہوئی ۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی اصلاح اور اسلام کے احیاء نو کا جو کام کرنا ہے وہ تقلیدی انداز میں نہیں ہوسکتا۔ آج ہزاروں تحریکیں اس مقصد کے لیے سرگرم ہیں مگر مطلوب نتیجہ برآمد نہیں ہورہا ہے۔ اُس کا خاص سبب یہی ہے۔ آج ضرورت ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو وقت کے فکری مستویٰ (intellectual level) پر پیش کیا جائے تاکہ وقت کا کارفرما طبقہ اُس کو اپنا سکے۔ ہماری موجودہ تحریکیں اسلام کو وقت کے فکری مستویٰ پر پیش نہیں کررہی ہیں اس لیے عوامی طبقہ کے کچھ لوگ تو ضرور اُن کے گرد اکٹھا ہو رہے ہیں مگر اعلیٰ طبقہ کے لوگ اُنہیں قابل توجہ نہیں سمجھتے۔ حالاں کہ جب تک اعلیٰ طبقہ کے لوگ متوجہ نہ ہوں اسلام کی نئی تاریخ بنائی نہیں جاسکتی۔
حیدر آباد ایرپورٹ سے روانہ ہو کر سب سے پہلے منوہر ہوٹل پہنچا۔ یہاں الرسالہ کے کئی قارئین اکٹھا ہوگئے ۔ اُن سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ اس مجلس میں میں نے جو باتیں کہیں اُن میں
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues