What ever miss T eats turns into miss T.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
سے ایک یہ تھی کہ معرفت کس طرح آدمی کو ایک نیا انسان بنا دیتی ہے۔ میں نے کہا کہ ایک انگریزی شاعر نے لکھا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں سب سے عجیب چیز یہ دیکھی کہ مس ٹی جو کچھ کھاتی ہے وہ مس ٹی بن جاتا ہے:
What ever miss T eats turns into miss T.
میں نے کہا کہ یہ واقعہ جو مس ٹی کے ساتھ مادی غذا کے معنی میں ہوتا ہے وہی مومن کے ساتھ روحانی معنی میں ہوتا ہے۔ یعنی ایک عورت یا مرد جو مادی غذا کھاتے ہیں وہ اُن کے جسم میں داخل ہو کر اُن کے گوشت اور خون اور ہڈی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اسی طرح مومن اس دنیا میں جو کچھ دیکھتا ہے یا سنتا ہے یا تجربہ کرتا ہے وہ سب اُس کے مومنانہ ذہن کی وجہ سے اُس کے لیے معرفتِ حق میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اسی مومنانہ صفت کو قرآن میں توسّم کہا گیا ہے۔ یہاں سلطان محمود صاحب، احمد سعید صاحب اور ضیاء الدین نیر صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔
ہوٹل میں قیام کے دوران بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندوؤں سے ملاقات ہوئی۔ اُن میں سے ایک قابل ذکر نام آر ایس ایس کے چیف کے ایس سدرشن کا ہے۔ ۷ دسمبر کو کھانے کی میز پر اُن سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ الیکشن کی سیاست سے واضح ہو چکا ہے کہ ’’سنگھ پریوار‘‘ کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ مرکز میں مطلق اکثریت کے ساتھ آ سکے۔ آپ حضرات کا یہ اندازہ درست ثابت نہیں ہوا کہ ہندو لوگ بڑی تعداد میں آپ کو ووٹ دیں گے اور اس طرح آپ پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کر لیں گے۔ آپ کا مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ مسلمان آپ کو ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں بلکہ خود ہندوؤں کے اندر ذات کی بنیاد پر سیاسی تفریق اتنی بڑھ چکی ہے کہ خود ہندوؤں کی اکثریت آپ کے ساتھ نہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ خود ہندوؤں میں ایسے لوگ ہیں جو آپ کے کلچرل نیشنلزم کو ہندو ٹیّرزم کے ہم معنیٰ بتاتے ہیں۔ ایسی حالت میں آپ مرکزی حکومت پر کس طرح قبضہ کریں گے اور اپنے سیاسی ایجنڈاکو کس طرح نافذ کریں گے جب کہ مرکزی اقتدار پر قبضہ کیے بغیر آپ کے لیے اپنے سیاسی ایجنڈے کا نفاذ ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues