Al-Risala · March 2004 · page 7

اجتماعی احتساب

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۷

پیدا ہو سکتی ہے۔ مگر جہاں تک علوم ظنی (especulative sciences) کا تعلق ہے، اُن میں اس قسم کی حمیت ممکن نہیں۔ اس دوسری قسم کے علوم میں صحت فکر کے لیے سنجیدگی (sincerity) لازمی طور پر ضروری ہوتی ہے۔ تقویٰ آدمی کے اندر یہی سنجیدگی پیدا کرتا ہے۔ یہ سنجیدگی اس بات کی ضمانت بن جاتی ہے کہ آدمی کا علم اُس کو بھٹکنے سے بچا لے۔

تقویٰ (خوف خدا) کبروغرور کا قاتل ہے۔ تقویٰ آدمی کے اندر انانیت (egoism) کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ تقویٰ آدمی کو عُجب اور خود پسندی سے بچا لیتا ہے۔ تقویٰ آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ بے لاگ طور پر سوچے اور کسی آمیزش کے بغیر اپنی رائے قائم کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ تقویٰ کو علم صحیح کا ذریعہ بتایا گیا۔

اجتماعی احتساب

قرآن کی سورہ نمبر ۳ میں بتایا گیا ہے کہ کسی معاشرہ کی صلاح و فلاح کے لیے کس چیز کی ضرورت ہے۔ فرمایا و لتكن منكم امة يدعون الى الخير و يامرون بالمعروف و ينهون عن المنکر و اولئک ھم المفلحون ۔

”اور ضرور ہے کہ تم میں ایک گروہ ہو جو نیکی کی طرف بلائے اور بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور ایسے ہی لوگ کامیاب ہوں گے۔ “ (آل عمران ۱۰۴)

قرآن کی اس آیت میں معاشرہ کی فلاح کے لیے جس اہتمام کا تذکرہ کیا گیا ہے اُس کو اجتماعی احتساب کا نظام کہا جا سکتا ہے۔ یہ اجتماعی احتساب تمام تر ایک غیر سیاسی ادارہ ہے، اُس کا کوئی تعلق حکومت سے نہیں۔ حکومت قائم ہو یا قائم نہ ہو، ہر حال میں اجتماعی احتساب کا یہ کام غیر حکومتی اداروں کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔

ہر سماج میں ایسا ہوتا ہے کہ اُس کے بعض افراد ایسے کام کرتے ہیں جس سے لوگوں کے اندر اشتعال پھیلے اور فساد کی نوبت آ جائے۔ اس کے روک کی تدبیر یہ ہے کہ سماج کے اندر ایسے افراد اور ایسی تنظیمیں ہوں جو ہر ایسے موقع پر حرکت میں آ جائیں۔ وہ بُرائی کرنے والوں کی مذمت کریں۔ وہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues

Printed page