Al-Risala · March 2004 · page 8

سازش بے اثر

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۸

سماج کو تیار کریں کہ وہ ایسے افراد کی براہ راست یا بالواسطہ حمایت نہ کرے ۔ وہ نصیحت اور تذکیر کے تمام ذرائع کو استعمال کر کے برائی میں ملوث ہونے والے افراد کی اصلاح کی مہم چلائیں۔ وہ ایسا ماحول پیدا کریں کہ بُرے افراد کے لیے سماج میں با عزت طور پر رہنا نا ممکن ہو جائے۔

یہی اجتماعی احتساب کا نظام ہے۔ یہی نظام کسی سماج کی فلاح کا ضامن ہے۔ جس سماج میں ایسا ہو کہ سماج کے سر بر آوردہ لوگ بُرے افراد کی مذمت نہ کریں ، وہ ایسے افراد کی حوصلہ شکنی کے لیے کھڑے نہ ہوں ، ایسا سماج یقینی طور پر فلاح سے محروم رہے گا۔

آیت میں فرمایا کہ : واولئک هم المفلحون (اور ایسے ہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں)۔ یہ کوئی پر اسرار بات نہیں۔ یہ در اصل فطرت کا ایک قانون ہے جس کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اجتماعی فلاح کا بہت کم تعلق حکومت اور قانون سے ہے۔ اس کا زیادہ تعلق اُن تعمیری سرگرمیوں سے ہے جو غیر حکومتی سطح پر انجام دی جائیں ۔ کسی سماج میں یہ ہونا چاہیے کہ اُس کے افراد دوسروں کے معاملہ میں غیر جانبدار بن کر نہ رہیں۔ وہ اپنی ذاتی فلاح کے ساتھ دوسروں کی فلاح بھی دل سے چاہتے ہوں ۔ جس سماج کے افراد میں یہ اسپرٹ ہو وہاں یہ ہوگا کہ لوگ ایک دوسرے کو نصیحت کرتے رہیں گے ۔ وہ ظالم کے مقابلہ میں مظلوم کا ساتھ دیں گے۔ وہ کسی دوسرے کو تکلیف میں دیکھیں گے تو وہ اُس پر تڑپ اُٹھیں گے اور اجتماعی زور کے ساتھ اُس کے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہ یہ چاہیں گے کہ سماج میں برائی دبے اور اچھائی پھیلے۔ اس قسم کا اصلاحی مزاج ہی کسی سماج کی تعمیر و ترقی کا سب سے بڑا ضامن ہے۔ قرآن کی اس آیت میں در اصل اجتماعی ضمیر کی بات کہی گئی ہے، حکومت واقتدار سے اُس کا براہ راست کوئی تعلق نہیں۔

سازش بے اثر

قرآن کی سورہ نمبر ۳ میں بتایا گیا ہے کہ سازش کا سب سے زیادہ مؤثر توڑ کیا ہے ۔ وہ ہے ــ صبر اور تقویٰ ۔ صبر اور تقویٰ بظاہر کوئی مادی طاقت نہیں ، مگر صبر و تقویٰ کے ذریعہ سازش کا کامیاب دفاع کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے:

‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues

Printed page