Al-Risala · March 2004 · page 12

حالات یکساں نہیں رہتے

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۱۲

دوسری طرف اُس کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُس کو اپنی زندگی کی کامیاب تعمیرکن خطوط پر کرنا چاہئے۔ خواہش کے خلاف قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں اسی پر زور دیا گیا ہے کہ شوہر اور بیوی میں اگر اختلاف ہو جائے اور وہ ایک دوسرے کو ناپسند کرنے لگیں تو دونوں کو ٹکراؤ کے بجائے موافقت کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے اس سلسلہ میں کہا گیا ہے کہ :

" اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں تمہارے لئے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو " ( النساء ۱۹ )

میاں اور بیوی کے تعلقات میں جب بھی اختلاف پیدا ہوتا ہے تو اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ ہر ایک دوسرے کے ناپسندیدہ پہلو کو مبالغہ آمیز انداز میں دیکھنے لگتا ہے ۔ حالانکہ اسی وقت اُس کے اندر کسی اور اعتبار سے پسندیدہ پہلو موجود ہوتا ہے ۔ مگر غصہ کی وجہ سے دونوں پسندیدہ پہلو کو دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی آدمی صرف برا نہیں ہوتا۔ ہر آدمی کی زندگی کا کوئی مثبت پہلو ہوتا ہے اور کوئی منفی پہلو۔ اگر منفی پہلو کو نظر انداز کر کے معاملہ کیا جائے تو اس کے زبردست فائدے دونوں فریق کو حاصل ہوں گے۔

ازدواجی زندگی میں جب ایک مرد اور عورت دونوں اپنے آپ کو شامل کرتے ہیں تو یہ دونوں کے لیے سب سے زیادہ قریبی تعلق کے ہم معنیٰ ہوتا ہے۔ اس قسم کا قریبی تعلق بے حد مفید ہے۔ مگر اس کے ساتھ اس قسم کے قریبی تعلق میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان فرق کی بنا پر اختلافات پیدا ہو جائیں اور پھر کسی ایک فرق کی بنا پر دونوں ایک دوسرے کو مطلوب سے کم سمجھنے لگیں ۔ مگر یہ سرتا سر نادانی ہے۔ عقلمندی یہ ہے کہ قریبی تعلق کے تعمیری پہلوؤں کو دھیان میں رکھا جائے اور اُن سے بھر پور طور پر فائدہ اٹھایا جائے ۔ جہاں تک ناپسندیدہ پہلوؤں کی بات ہے تو اس معاملہ میں حقیقت پسندانہ طریقہ اختیار کرتے ہوئے اُس کو نظر انداز کر دینا چاہئے ، یہی مرد کو بھی کرنا ہے اور یہی عورت کو بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues

Printed page