دور رس کلام
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۱۳
دور رس کلام
قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں کامیاب کلام کا ذکر کیا گیا ہے۔ پیغمبر سے خطاب کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جو لوگ بظاہر انکار کی روش اختیار کیے ہوئے ہیں اُن کو کس طرح اقرار کی روش پر لایا جائے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے:
"پس تم ان سے اعراض کرو اور اُن کو نصیحت کرو اور اُن سے ایسی بات کہو جو اُن کے دلوں تک پہنچنے والی ہو"۔ (النساء ۶۳)
جب کوئی شخص کسی بات کو ماننے سے انکار کرتا ہے تو اُس کا یہ انکار سادہ طور پر محض انکار نہیں ہوتا بلکہ اُس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ اپنے ذہنی ڈھانچہ کی بنا پر وہ بات اُس کی سمجھ میں نہیں آتی۔ لمبی مدت تک ایک خاص فکری ماحول میں رہنے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ وہ چیزوں کو ایک خاص زاویہ سے دیکھنے لگتا ہے۔ اس لیے وہ چیزوں کو کسی اور زاویہ سے دیکھ نہیں پاتا۔ اکثر حالات میں کسی انسان کا انکار اُس کی فکری مجبوری کی بنا پر ہوتا ہے، نہ کہ دانستہ سرکشی کی بنا پر۔
ایسی حالت میں ضرورت ہوتی ہے کہ صبر آزما کوشش کے ذریعہ اُس کے اندرنئی سوچ لائی جائے۔۔ اُس کے ذہن کے اوپر پڑے ہوئے پردوں کو ہٹا دیا جائے۔ مصلح کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کی منفی روش کو نظر انداز کرتے ہوئے خیر خواہانہ طور پر اُن کو سمجھا نے بجھا نے کا طریقہ جاری رکھے۔ وہ اُن کے ذہن پر پڑے ہوئے پردوں کو اس طرح ہٹائے کہ سچائی کی بات کسی رکاوٹ کے بغیر اُس کے ذہن تک پہنچ جائے۔ جب ایسا ہوگا تو اُس کے لیے سچائی کا اعتراف اُسی طرح آسان بن جائے گا جس طرح کسی باپ کے لیے اپنے بیٹے کو پہچاننا آسان ہوتا ہے۔
ٹائم مینجمنٹ
قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں نماز کا حکم بتایا گیا ہے جو اسلام میں اہم ترین عبادت ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے:
"بے شک نماز مسلمانوں پر فرض ہے اپنے مقرر وقتوں میں" (النساء ۱۰۳)
‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues