Al-Risala · March 2004 · page 14

ٹائم مینجمنٹ

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۱۴

نماز اسلام کی ایک بنیادی عبادت ہے۔ اُس کا ادا کرنا ہر مسلمان پر ہر روز کے لیے فرض ہے۔ وہ رات اور دن کے درمیان پانچ بار مقررا وقات پر ادا کی جاتی ہے۔ جس طرح نماز کی ادائیگی ضروری ہے اُسی طرح اسی کے اوقات کی پابندی بھی ضروری ہے۔

نماز اصلاً ایک عبادت ہے۔ مگر اُس کی ادائیگی میں اوقات کی پابندی کو شامل کر دیا گیا ہے۔ اِس طرح نماز گویا وقت کی پابندی کا ایک سبق ہے جو ہر دن لازمی طور پر انجام دیا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ نماز عبادت کے ساتھ ٹائم مینجمنٹ (time management) کی ایک لازمی تربیت ہے۔ اِس طرح نمازی کے رات اور دن کو پانچ حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے—(۱) فجر سے لے کر ظہر تک (۲) ظہر سے لے کر عصر تک (۳) عصر سے لے کر مغرب تک (۴) مغرب سے لے کر عشاء تک (۵) عشاء سے لے کر فجر تک۔

انسان کے پاس سب سے قیمتی چیز وقت ہے۔ وقت کے صحیح استعمال کا انجام کامیابی ہے اور وقت کے غلط استعمال کا انجام ناکامی ہے۔ نماز کی صورت میں ٹائم مینجمنٹ کا سبق جو ہر روز دیا جاتا ہے وہ اِس دنیا میں کامیاب زندگی کو یقینی بناتا ہے۔ آدمی اگر اپنے رات اور دن کے اوقات کو اس طرح پانچ خانوں میں تقسیم کر لے اور روزانہ اِس کی پابندی کرے تو وہ اپنی پوری زندگی کو بھر پور طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ اور اِس دنیا میں جو آدمی اپنے ملے ہوئے اوقات کو منظم طور پر اور بھر پور طور پر استعمال کرے اُس کو کوئی بھی چیز اعلیٰ کامیابی تک پہنچنے سے روکنے والی نہیں۔

ٹائم مینجمنٹ کا مطلب، دوسرے لفظوں میں لائف مینجمنٹ ہے۔ زندگی کو درست طور پر کیسے گزارا جائے، اِس کا بہت گہرا تعلق اس سے ہے کہ آدمی اپنے اوقات کو کس طرح استعمال کرے۔ جس آدمی کے اندر وقت کے درست استعمال کا مزاج پیدا ہو جائے وہ اِس کے ساتھ دوسری بہت سی برائیوں سے بچ جائے گا۔ وقت کا صحیح استعمال آدمی کو اس قابل بنائے گا کہ وہ اپنے حاصل شدہ ذرائع کو درست طور پر استعمال کرے۔ ۔

مثلاً ٹائم مینجمنٹ کا مزاج آدمی کو سادہ زندگی پر مجبور کر دیتا ہے۔ کیوں کہ سادہ زندگی اختیار نہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues

Printed page