Al-Risala · March 2004 · page 16

انتہا پسندی نہیں

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۱۶

مگر اس کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ صلح ایک اعلیٰ تدبیر ہے جو ہر نزاعی مسئلہ کا واحد کامیاب حل ہے، خواہ وہ نزاعی مسئلہ انفرادی ہو یا اجتماعی، خواہ وہ قومی ہو یا بین الاقوامی۔ جب بھی دو آدمیوں یا دو فریقوں کے درمیان کوئی نزاع پیش آتی ہے تو اس نزاع کو حل تک نہ پہنچنے کا سبب صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ حرص ہے۔ اس موقع کے لحاظ سے حرص کا مطلب یہ ہے کہ عملاً جو کچھ مل رہا ہے اُس پر راضی نہ ہونا اور اُس سے زیادہ چاہنا۔ یہی حرص یا زیادہ چاہنے کا مزاج نزاع کو ختم نہیں ہونے دیتا۔ وہ آخر کار بڑھ کر باقاعدہ ٹکراؤ کا سبب بن جاتا ہے۔

اس کے مقابلہ میں صلح یہ ہے کہ بروقت جو کچھ عملی طور پر مل رہا ہے اُس پر راضی ہو کر معاملہ کو ختم کر دینا۔ جب ایک شخص صلح کے اس طریقہ کو اختیار کرے تو اپنے آپ نزاع کی حالت ختم ہو جاتی ہے۔ اُس کے بعد یہ نوبت ہی نہیں آتی کہ نزاع بڑھ کر ٹکراؤ بن جائے۔ نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو حرص کا طریقہ ہمیشہ مزید نقصان کا سبب بنتا ہے، اور صلح کا طریقہ کام کے مواقع کھولتا ہے جس کو استعمال کر کے مزید ترقی حاصل کر لی جائے۔

صلح کوئی سادہ بات نہیں۔ صلح کوئی انفعالی روش نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صلح اپنے آپ میں سب سے بڑا عمل ہے۔ صلح بظاہر میدانِ مقابلہ سے واپسی ہے۔ مگر عملاً وہ اقدام کی سب سے بڑی تدبیر ہے۔ جب کوئی فرد یا گروہ صلح کر لے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اُس نے اپنے لیے ایک ایسا ماحول پالیا جس کے اندر وہ ٹکراؤ میں وقت ضائع کیے بغیر اپنے پورے وقت اور طاقت کو اپنے تعمیری منصوبہ میں لگائے۔

غیر مصالحانہ طریقہ زندگی کے سفر کو روک دیتا ہے۔ اس کے برعکس مصالحانہ طریقہ زندگی کے سفر کو کے بغیر دوبارہ مزید اضافہ کے ساتھ جاری کر دیتا ہے۔

انتہا پسندی نہیں

قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں جو احکام دیے گئے ہیں اُن میں سے ایک حکم یہ ہے کہ لوگ غلو یا انتہا پسندی کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ غلو یا انتہا پسندی ہر حال میں بُری چیز ہے۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:

‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues

Printed page