Al-Risala · March 2004 · page 17

سچائی کی دریافت

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۱۷

اے اہل کتاب ، تم اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ کے بارہ میں تم کوئی بات حق کے سوا نہ کہو (النساء ۱۷۱)

اس آیت میں جس روش کو غلو کہا گیا ہے وہ وہی ہے جس کو انتہا پسندی(extremism) کہا جاتا ہے۔ انتہا پسندی بظاہر اچھی نیت کے ساتھ ہوتی ہے۔ اُس کے پیچھے یہ جذبہ ہوتا ہے کہ کسی مقصد کو مزید قوت کے ساتھ حاصل کیا جائے۔ انتہا پسندی دراصل اعتدال پسندی کی ضد ہے۔

انتہا پسندی کی روش بظاہر اچھی نیت کے ساتھ کی جاتی ہے مگر عملی نتیجہ کے اعتبار سے وہ سخت نقصان دہ ہے۔ اس دنیا میں کوئی صحیح یا مثبت نتیجہ ہمیشہ اعتدال کی روش کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ انتہا پسندی کی روش صرف نقصان پہنچاتی ہے وہ کسی فائدہ کا سبب نہیں بن سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر کام خارجی اسباب کی رعایت کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ خارجی اسباب کا لحاظ نہ کرتے ہوئے جو اقدام کیا جائے گا وہ صرف تباہی کا سبب بنے گا۔

انتہا پسندی اور اعتدال پسندی میں یہی فرق ہے۔ انتہا پسند لوگ صرف اپنی خواہش کو جانتے ہیں وہ خارجی اسباب سے بے خبر رہتے ہیں۔ اس کے برعکس اعتدال پسند آدمی اپنی خواہش کے ساتھ خارجی اسباب کو بھی اپنے دھیان میں رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتہا پسند آدمی ہمیشہ ناکام ہوتا ہے اور اعتدال پسند آدمی ہمیشہ کامیاب رہتا ہے۔

غلو یا انتہا پسندی ایک ایسی روش ہے جو فطرت کے قوانین کے خلاف ہے۔ کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ فطرت ہمیشہ اعتدال اور تدریج کے اصول پر کام کرتی ہے۔ یہ اصول جو خارجی دنیا میں عملاً قائم ہے وہی اصول انسان کے لیے بھی مفید ہے۔ فطرت کا نظام عمل کی زبان سے انسان کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ تم اپنی زندگی کو کامیاب بنانا چاہتے ہو تو غلو کو چھوڑ دو اور اعتدال کا طریقہ اختیار کرو۔

سچائی کی دریافت

قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں ایک واقعہ کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے: اور جب وہ اس کلام کو سنتے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues

Printed page