Al-Risala · June 2004 · page

۱۲۔ رعایت کا معاملہ

الرسالہ، جون ۲۰۰۴

بیوی جس کے اوپر آدمی کو پورا اعتماد ہو۔ یہ اعتماد ہمیشہ دوطرفہ ہوتا ہے۔ جب شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کو آخری حد تک اپنا سمجھ لیں تو اُس وقت دونوں کے درمیان غیرت کا فرق بالکل مٹ جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو اس طرح دیکھنے لگتے ہیں کہ جیسے کہ دونوں کے درمیان ’’میں اور وہ‘‘ کا فرق مٹ گیا ہو۔ دونوں کی شخصیت ایک دوسرے میں ضم ہو کر ایک زندہ گل بن گئی ہو۔ عورت اور بیوی کے درمیان اپناپن کا یہی ماحول دونوں کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ جب دونوں کے درمیان اس طرح کا تعلق قائم ہو جائے تو دونوں یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ دنیا میں وہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ گویا پوری انسانیت اُن کے ساتھ ہے۔ ہر ایک یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ میرے باہر کا پورا عالم میرے ساتھ زندگی کے سفر میں شریک ہو گیا ہے۔ یہ احساس دونوں کے اندر اتنا زیادہ حوصلہ پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے بعد انہیں کوئی بھی چیز نا ممکن نظر نہیں آتی۔ عورت کسی مرد کے لیے سب کچھ اُس وقت بنتی ہے جب کہ وہ محسوس کرے کہ مرد بھی اُس کے لیے اُس کا سب کچھ بن گیا ہے۔ باہمی اعتماد کا یہ معاملہ بلاشبہ دوطرفہ ہے۔ فطری قوانین کے تحت یہ معاملہ یک طرفہ طور پر قائم نہیں ہوسکتا۔

۱۲۔ رعایت کا معاملہ

ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ کیوں کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھ اس کے اوپر کے حصہ میں ہوتی ہے۔ اگر تم اس کو سیدھا کرنے لگو تو تم اس کو توڑ دو گے اور اگر تم اس کو چھوڑ دو تو وہ ویسی ہی رہے گی۔ پس تم عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی میری نصیحت قبول کرو(عن ابی ہریرة قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: استوصوا بالنساء خیراً فان المرأة خلقت من ضلع وانّ اعوج شئی فی الضلع اعلاه فان ذهبت تقيمه كسرته وان تركته لم يزل اعوج فاستوصوا بالنساء)۔

صحیح البخاری، بحوالہ مشکوٰة المصابیح، جلد ۲، صفحہ ۹۷ (رقم الحدیث ۳۲۳۸)

‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues

Printed page