Al-Risala · June 2004 · page

۱۲۔ رعایت کا معاملہ

الرسالہ، جون ۲۰۰۴

اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ خاتونِ اول حوّا کے طریقِ تخلیق کے بارے میں نہیں۔ بلکہ وہ عورت کے عام مزاج کو بتاتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، پسلی کی ہڈی کسی قدر ٹیڑھی ہوتی ہے۔ اس کا ٹیڑھا ہونا اس کا نقص نہیں ہے بلکہ یہی اس کی موزونیت ہے۔ پسلی کی ہڈی کو اگر آپریشن کر کے سیدھا کر دیا جائے تو وہ جسم انسانی میں اپنی کارکردگی کو صحیح طور پر ادا نہ کر سکے گی۔ ایک اور روایت میں یہ لفظ ہے کہ المرأة کا لضلع (عورت پسلی کی ہڈی کی مانند ہے)۔ یہ تمثیل کی زبان ہے۔ اور یہ تمثیل دراصل عورت کی ایک صفت کو بتانے کے لیے ہے۔ اور وہ یہ کہ عورت نسبتاً جذباتی (emotional) ہوتی ہے۔ مرد کے مقابلہ میں عورت کو کسی قدر جذباتی اس لیے بنایا گیا ہے کہ چیزوں سے اس کو ایک جذباتی تعلق ہو جائے اور اس بنا پر وہ اپنی مخصوص ذمہ داریوں کو بہتر طور پر ادا کر سکے۔ اسی مخصوص مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ عورت کو اپنے بچہ کے ساتھ انتہائی جذباتی تعلق ہوتا ہے۔ اگر یہ جذباتی تعلق نہ ہو تو عورت اپنے بچہ کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہ کر سکے۔ ۱۳۔ فطرت انسانی کا تقاضا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تمہاری دنیا کی چیزوں میں سے خوشبو اور عورتیں محبوب بنائی گئی ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے (حبب الی من دنیاکم الطيب والنساء و جعلت قرة عيني في الصلوة)

احمد، النسائی، بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح، جلد ۳، صفحہ ۱۴۴۸ (رقم الحدیث ۵۲۶۱) اس حدیث میں ضمیر متکلم کے اسلوب میں دراصل انسانی فطرت کو بتایا گیا ہے۔ انسان کے اندر فطری طور پر یہ مزاج ہے کہ وہ اپنے زوج (جوڑے) کی طرف خصوصی میلان رکھتا ہے۔ وہ اپنے جوڑے کو اپنا تکمیلی حصہ سمجھتا ہے۔ اس کا پورا وجود محسوس کرتا ہے کہ اس جوڑے کے بغیر اُس کی ہستی مکمل نہیں۔ یہ فطرت کی تخلیق کا ایک حصہ ہے۔ اس کا تعلق ہر انسان سے ہے۔

مرد اور عورت دونوں کو مل کر دنیا میں جو کام کرنا ہے وہ بے حد صبر آزما کام ہے۔ وہ ایک پر مشقت جدوجہد ہے۔ اس پر مشقت جدوجہد کو خوشگوار بنانے کے لیے عورت اور مرد کے اندر ایک

‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues

Printed page