Al-Risala · March 2004 · page 22

برائی اور بھلائی

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۲۲

برائی اور بھلائی

قرآن کی سورہ نمبر ۱۱ میں زندگی کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ اس قانون کا تعلق ہر فرد سے ہے، مرد سے بھی اور عورت سے بھی۔ عام انسان سے بھی اور خاص انسان سے بھی۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے:

بے شک نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو۔ یہ یاد دہانی ہے یاد دہانی حاصل کرنے والوں کے لیے۔ (ھود ۱۱۴)

انسان پتھر نہیں ہے۔ انسان سے مختلف قسم کی غلطیاں پیش آتی ہیں۔ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک مرد یا ایک عورت سے ایک واقعہ سرزد ہو گیا۔ بعد کو انہیں احساس ہوا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ اس غلطی کی تلافی کس طرح کی جائے۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں غلطی کی تلافی کے اسی اصول کو بتایا گیا ہے۔

آدمی جب کوئی غلطی کرتا ہے تو اُس کا سب سے پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ اُس کے دل کے اندر اچھے اور برے کے بارہ میں حساسیت (sensitivity) کم ہو جاتی ہے۔ اور اگر آدمی بار بار وہی برائی کرتا رہے تو اُس کی حساسیت پوری طرح ختم ہو جائے گی۔ جب کہ یہی حساسیت برائی کے خلاف سب سے بڑا چک ہے۔ ایسی حالت میں حساسیت کا ختم ہونا انسان کا گویا حیوان بن جانا ہے۔ اس مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ آدمی برائی کرنے کے بعد بھلائی کرے — وہ اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کرے ۔ وہ اس بات کا فیصلہ کرے کہ وہ آئندہ ایسی غلطی نہیں کرے گا۔ جو آدمی ایسا کرے وہ اپنے دل کو دوبارہ پاک کرلے گا۔ اُس کے دل کی حساسیت دوبارہ اُس کی طرف لوٹ آئے گی۔

بُرائی کا دوسرا اثر وہ ہے جس کا تعلق سماج سے ہے۔ سماج کے ایک فرد کا برائی کرنا ایسا ہی ہے جیسے پُر سکون پانی میں پتھر پھینکنا۔ چنانچہ ایک فرد کا برائی کرنا پورے سماج کو متاثر کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اپنی برائی کی تلافی کرنا گویا پورے سماج کو بگاڑ سے بچانا ہے۔ یہ فرد کے اوپر ایک سماجی فرض ہے کہ وہ اپنی برائی کے انجام سے سماج کو بچائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues

Printed page