Al-Risala · March 2004 · page 23

نفس امارہ، نفس لوامہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۲۳

نفس امارہ، نفس لوامہ

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان کے اندر دو مختلف قسم کی صلاحیتیں (faculties) ہیں۔ ایک نفس امارہ (یوسف ۵۳) اور دوسرے نفس لوامہ (القیامہ ۲) انسان کے اکثر اعمال انہی دونوں صلاحیتوں کے تحت انجام پاتے ہیں، خواہ وہ فرد سے تعلق رکھتا ہو یا جماعت سے۔ قرآن کی اس آیت میں نفس امارہ سے مراد برائی کا حکم دینے والانفس ہے۔ اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو انانیت (ego) کہا جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں نفس لوامہ سے مراد ملامت کرنے والا نفس ہے۔ اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو ضمیر (conscience) کہا جاتا ہے۔

اجتماعی زندگی کا اصول یہ ہے کہ جب دو آدمیوں یا دو پارٹیوں کے درمیان کوئی مسئلہ پیش آئے تو اس وقت سارا فیصلہ اس پر منحصر ہوتا ہے کہ آدمی کے ایگو (ego) کو جگایا گیا ہے یا اس کے ضمیر کو جگایا گیا ہے۔ اگر آپ آدمی کے ایگو کو جگائیں تو اس کا نتیجہ بگاڑ کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ When one's ego is touched it turns into super ego and the result is breakdown. اس کے برعکس اگر آدمی کے ضمیر کو پچ (touch) کیا جائے تو اس کے اندر اعتراف اور شرمندگی کا جذبہ جاگ جائے گا اور فیصلہ انصاف کے مطابق ظاہر ہوگا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی آپ کا معاملہ کسی شخص سے پیش آئے یا اس کے ساتھ کوئی نزاع قائم ہو جائے تو اس وقت گویا نتیجہ مکمل طور پر خود آپ کے اختیار میں ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنی کسی اشتعال انگیز کارروائی سے فریق ثانی کے ایگو (نفس امارہ) کو بھڑکا دیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ فریق ثانی آپ کے لیے مخالف کے روپ میں ابھرے گا۔ وہ آپ کی اشتعال انگیزی کا جواب نفرت اور تشدد کی صورت میں دے گا۔ اس کے برعکس اگر آپ اختلاف و نزاع کے موقع پر صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کریں تو ایسی صورت میں فریق ثانی کی طرف سے آپ کو بالکل مختلف قسم کا تجربہ پیش آئے گا۔ اب ایسا ہوگا کہ بظاہر جو آدمی آپ کا حریف بنا ہوا تھا وہ آپ کے لیے ایک بے ضرر انسان بن جائے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues

Printed page