Al-Risala · March 2004 · page 31

ملاقات کا صحیح طریقہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۳۱

شروع کر دیا جائے تو یہ سخت نقصان کا باعث ہوگا۔ اس طریق کار میں فائدہ کی امید کم اور نقصان کی امید زیادہ ہے۔

عملی اقدام کی زیادہ مؤثر تدبیر یہ ہے کہ اطراف کے شعبوں سے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا جائے ۔ اطراف سے چل کر مرکز تک پہنچا جائے۔ غیر سیاسی اداروں میں نفوذ حاصل کرتے ہوئے سیاسی ادارہ پر مؤثر بننے کی کوشش کی جائے۔ یہ طریقہ کامیابی کا یقینی طریقہ ہے۔ اس کے برعکس دوسرا طریقہ نقصان اور ناکامی کا طریقہ۔

اس حقیقت کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ اکثر حالات میں کسی کے خلاف براہ راست کارروائی مفید نہیں ہوتی۔ اکثر حالات میں زیادہ مفید طریقہ یہ ہے کہ بالواسطہ انداز میں اپنی کوشش شروع کی جائے۔ براہ راست کارروائی کے مقابلہ میں بالواسطہ کارروائی کا انداز اکثر حالات میں زیادہ کامیاب ثابت ہوتا ہے۔

ملاقات کا صحیح طریقہ

قرآن کی سورہ نمبر ۲۴ میں باہمی ملاقات کے آداب بتاتے ہوئے ایک تعلیم یہ دی گئی ہے کہ ملاقات کے لیے پیشگی اجازت کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ مذکورہ قرآنی آیت ہے: اے ایمان والو، تم اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت حاصل نہ کر لو اور گھر والوں کو سلام نہ کر لو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے تا کہ تم یاد رکھو (النور ۲۷) قرآن کی اس آیت میں ملاقات سے پہلے اپائنٹمنٹ (appointment) لینے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ یعنی ایک شخص جب دوسرے شخص سے ملنا چاہے تو اُس کے یہاں جانے سے پہلے پیشگی طور پر وہ باقاعدہ اُس سے اجازت حاصل کرے اور پھر اُس کے یہاں ملنے کے لیے جائے۔ آدمی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ کسی کے یہاں ملاقات کے لیے اچانک پہنچ جائے۔ اس سے سماجی زندگی میں مختلف قسم کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ حتی کہ خود ملاقات کا مقصد بھی حاصل نہیں ہوتا۔ اگر بالفرض کوئی شخص پیشگی اجازت نامہ کے بغیر کسی کے ہاں ملنے کے لیے پہنچ جائے تو اُس کے اندر یہ حوصلہ ہونا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues

Printed page