Al-Risala · March 2004 · page 30

انسانی علم کی محدودیت

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۳۰

رسائی ممکن نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ حقیقت پسندی سے کام لے۔ وہ جزئی علم کی بنیاد پر کلی علم کے بارہ میں استنباط کرے۔ اگر انسان نے یہ اصرار کیا کہ ہر چیز کو براہ راست میرے مشاہدہ میں آنا چاہئے تو وہ صرف کنفیوژن کاشکار ہو کررہ جائے گا۔ کیوں کہ کلی حقیقت کا بطور مشاہدہ علم میں آنا اس دنیا میں ممکن ہی نہیں۔

یہ ایک اہم تعلیم ہے۔ یہی واحد چیز ہے جو آدمی کو کنفیوژن سے بچانے والی ہے۔ جو لوگ یہ چاہیں کہ ہر چیز اُن کے براہِ راست مشاہدہ میں آئے، اُسی وقت وہ اُس کو مانیں گے تو ایسے لوگ ہمیشہ بے یقینی کا شکار رہیں گے۔ اس دنیا میں یقین کے درجہ تک پہنچنا صرف اُس انسان کے لیے ممکن ہے جو حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے ایسا کرے کہ وہ جزئی علم تک براہِ راست رسائی حاصل کرنے کے بعد یہ اعتراف کرلے کہ اس کے بعد براہِ راست علم کی حد ختم ہوگئی اور بالواسطہ علم کی حد آگئی۔ یہی واحد طریقہ ہے جو کسی آدمی کو یقین کا درجہ عطا کر سکتا ہے۔

یہ عین وہی اصول ہے جس کو موجودہ سائنس میں اب ایک حقیقت کے طور پر مان لیا گیا ہے۔ اب اہل علم کے درمیان یہ ایک مسلمہ اصول بن چکا ہے کہ سائنس ہم کو سچائی کا صرف ایک حصہ عطا کرتی ہے: Science gives us but a partial knowledge of reality. اطراف ارض، مرکز ارض قرآن کی سورہ نمبر ۲۱ میں وقت کے اُن بااقتدار لوگوں کو خطاب کیا گیا ہے جو پیغمبر کی مخالفت کر رہے تھے اور اُس کو زیر کرنا چاہتے تھے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے: کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اُس کے اطراف سے گھٹاتے چلے جا رہے ہیں پھر کیا یہی لوگ غالب رہنے والے ہیں (الانبیاء ۴۴)

قرآن کی اس آیت سے فطرت کا ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ اطراف پر قبضہ کرتے ہوئے مرکز تک رسائی حاصل کرنا۔ یہ کسی کے خلاف عمل کا سب سے زیادہ کامیاب طریقہ ہے۔ مقابلہ کی صورت میں اگر ایسا کیا جائے کہ شروع ہی میں براہِ راست اقتدار کے مرکز سے ٹکراؤ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues

Printed page