قابل اعتماد کارکن
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۳۳
تو ایسے اقدام کو درست کہا جاسکتا ہے مگر جو اقدام الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا (counter productive) ہو، اُس سے بچنا لازمی طور پر ضروری ہے۔
عملی اقدام آئیڈیلزم کے تحت نہیں ہوتا بلکہ پریکٹیکل کے تحت ہوتا ہے۔ اپنا ذاتی معاملہ ہو تو آدمی آئیڈیل بن سکتا ہے مگر اجتماعی معاملہ میں ہر ایک کو پریکٹیکل ہی بننا ہے، خواہ وہ کوئی عام آدمی ہو یا کوئی حکمراں ہو۔
قابل اعتماد کارکن
قرآن کی سورہ نمبر ۲۸ میں ایک واقعہ کا بیان ہے۔ اس کے ذیل میں یہ بتایا گیا ہے کہ کسی مقصد کے لیے اچھے کارکن کا انتخاب کرنا ہو تو اس کے اندر کن صفات کو دیکھنا چاہیے۔ قرآن کی متعلقہ آیت یہ ہے: ’’ان میں سے ایک نے کہا کہ اے باپ، اس کو ملازم رکھ لیجیے۔ بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہے جو مضبوط اور امانت دار ہو‘ (القصص ۲۶)
قرآن کی اس آیت میں قابلِ اعتماد کارکن کی صفت کو بتانے کے لیے دو لفظ استعمال کئے گئے ہیں۔ ایک، قوی (Hard worker) اور دوسرے، امین (Honest) یہ دونوں صفتیں ابدی صفتیں ہیں۔ خواہ کسی بھی زمانہ میں اور خواہ کسی بھی کام کے لیے کارکن کا انتخاب کرنا ہو تو انہی دونوں کی حیثیت بنیادی صفت کی رہے گی۔ جو نظام ان دو صفتوں کے حامل افراد کو حاصل کرلے اس کی کامیابی اور ترقی بلاشبہ یقینی ہے۔
قوت کا تعلق کارکن کی جسمانی طاقت سے ہے اور امانت کا تعلق اُس کے مزاج سے۔ یہی دونوں چیزیں کسی کارکن کو اچھا کارکن بناتی ہیں۔ اچھا کارکن وہ ہے جو ایک طرف محنتی ہو اور دوسری طرف اُس کے اندر یہ مزاج ہو کہ وہ ٹائم کی اہمیت کو جانے اور اپنی ڈیوٹی میں کمی کو برداشت نہ کر سکے۔ صبر سے امامت قرآن کی سورہ نمبر ۳۲ میں ایک گروہ کا ذکر کیا گیا ہے جس کو خدا نے لیڈر شپ عطا کی۔ وہ اس سرفرازی کے مستحق کیسے قرار پائے اس کا راز صبر تھا۔ قرآن کی مذکورہ آیت یہ ہے:
‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues