دشمن میں دوست
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۳۴
”اور ہم نے ان میں پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے جب کہ انہوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے‘‘ (السجدہ ۲۴)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ کامیاب قیادت کا راز صبر ہے۔ صبر کسی آدمی کو دوسروں سے بلند کرتا ہے اور بلند سوچ اور بلند کردار ہی وہ صفتیں ہیں جو کسی آدمی کو دوسروں کے اوپر سرداری کا مقام دیتی ہیں۔ لوگ اسی شخص یا گروہ کو اپنا امام تسلیم کرتے ہیں جو انہیں اپنے سے بلند دکھائی دے۔ جو اس وقت اصول کے لیے جئے جب کہ لوگ مفاد کے لیے جیتے ہیں۔ جو اس وقت انصاف کی حمایت کرے جب کہ لوگ قوم کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔ جو اس وقت برداشت کرے جب کہ لوگ انتقام لیتے ہیں۔ جو اس وقت اپنے کو محرومی پر راضی کرلے جب کہ لوگ پانے کے لیے دوڑتے ہیں۔ جو اس وقت حق کے لیے قربان ہو جائے جب کہ لوگ صرف اپنی ذات کے لیے قربان ہونا جانتے ہیں۔ یہی صبر ہے اور جو لوگ اس صبر کا ثبوت دیں وہی قوموں کے امام بنتے ہیں۔
دشمن میں دوست
قرآن میں فطرت کے جو قوانین بتائے گئے ہیں اُن میں سے ایک قانون یہ ہے کہ کوئی آدمی کبھی کسی کا پیدائشی دشمن نہیں ہوتا۔ ہر آدمی کی فطرت وہی ہے جو کسی دوسرے آدمی کی۔ اس لیے کسی کو بھی اپنا ابدی دشمن نہیں سمجھنا چاہئے۔ اس حقیقت کو قرآن کی سورہ نمبر ۴۱ میں اس طرح بتایا گیا ہے: ’’اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے خدا کی طرف بُلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا‘‘۔ (حم السجدہ ۳۳۔ ۳۴)
ہر انسان پیدائشی اعتبار سے فطرت صحیح پر پیدا ہوتا ہے۔ ہر انسان پیدائشی طور پر ویسا ہی ایک انسان ہے جیسا کہ کوئی دوسرا شخص۔ دشمنی جیسی منفی چیزیں انسانی شخصیت کا محض اوپری حصہ ہیں نہ کہ اُس کا داخلی حصہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues