Al-Risala · March 2004 · page 45

مشکل میں آسانی

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۴۵

حقیقت پسند بنانے کا ذریعہ ہیں۔ مشکلات سے گزرنے کے بعد انسان کے اندر وہ اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں جن کو احتیاط، ضبط نفس، ڈسپلن، احساس ذمہ داری اور اعتراف کہا جاتا ہے۔ جو لوگ مشقت کے کورس سے نہ گزریں وہ سطحی انسان بن کر رہ جائیں گے۔ ایسے لوگ انسانیت کے اعلیٰ درجے تک نہیں پہنچ سکتے۔

مشقت اپنی حقیقت کے اعتبار سے کوئی مصیبت یا برائی نہیں، مشقت انسانی زندگی کے لیے ایک ترقیاتی کورس ہے۔ جو انسان مشقتوں کا تجربہ نہ کرے وہ زندگی کی گہری حقیقتوں سے بے خبر رہے گا۔ مشقت ایک کورس ہے جو آدمی کو گہری حقیقتوں سے واقف کراتا ہے۔ وہ آدمی کے چھپے ہوئے امکانات کو ظہور میں لاتا ہے۔ وہ کسی آدمی کے لیے مہمیز کا کام کرتا ہے۔ مشقت زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کے ہم معنی ہے۔ مشقت ہر قسم کی ترقیوں کا زینہ ہے، جہاں مشقت نہیں وہاں ترقی بھی نہیں۔

مشکل میں آسانی

قرآن کی سورہ نمبر ۹۴ میں فطرت کے ایک اٹل قانون کا بیان ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر خاتمہ ایک نئے امکان کو لیے ہوئے ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں کسی کے لیے کسی بھی حال میں مایوسی کی ضرورت نہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کا بیان یہ ہے:

”پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے“ (الانشراح ۵-۶) قرآن کی اس آیت میں فطرت کے ایک راز کو کھولا گیا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی مسئلہ کبھی اکیلا نہیں آتا۔ وہ اپنا حل بھی اپنے ساتھ لے آتا ہے۔ اس دنیا میں ہرڈس ایڈوانج کے ساتھ ایڈوانج موجود ہے۔ اس دنیا میں ہر مائنس پوائنٹ کے ساتھ پلس پوائنٹ شامل ہے۔ اس دنیا میں ہر نقصان کے ساتھ فائدہ کا ایک امکان چھپا ہوا ہے۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں کوئی حالت یکساں طور پر باقی نہ رہے۔ یہاں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ حالات بدلتے رہتے ہیں۔ ہر تاریکی اپنے ساتھ روشنی لے آتی ہے۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues

Printed page