Al-Risala · March 2004 · page 44

اعلیٰ اخلاق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۴۴

کو رعایت دینے کے لیے تیار نہ ہونا۔ اپنی ذات کے معاملہ میں حساس ہونا اور جب معاملہ دوسروں کا ہو تو بے حس بن جانا۔ اپنے لیے انصاف چاہنا اور دوسروں کے ساتھ بے انصافی پر راضی رہنا۔ یہ تو جانتا کہ مجھے کیا پسند ہے، مگر دوسروں کی پسند اور ناپسند کے بارہ میں بے خبر رہنا۔ اپنی عزت خطرہ میں ہو تو اُس کو برداشت نہ کرنا مگر دوسروں کی عزت پر حملہ ہو تو اُس کے بارہ میں بے حس بن جانا، وغیرہ۔ اپنے اور غیر میں اس قسم کا ہر فرق ططفیف ہے۔ جس آدمی کے اندر اس قسم کا مزاج ہو وہ کبھی ترقی کے اعلیٰ درجہ پر نہیں پہنچ سکتا۔ اس قسم کا مزاج آدمی کے اندر اعلیٰ صفات کی پرورش میں مستقل رکاوٹ ہے۔ اور جس آدمی کے اندر اعلیٰ صفات کی پرورش رُک جائے اُس کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ انسانی ترقی کے اعلیٰ مراحل طے کرنے سے محروم رہے اور آخر کار وہ اسی حال میں مرجائے۔ مشقتوں کے درمیان قرآن کی سورہ نمبر ۹۰ میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ اس قانون کا تعلق تمام انسانوں سے ہے، خواہ وہ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی، خواہ وہ بظاہر اچھے ہوں یا بُرے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے:

"ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے" (البلد ۴)

قرآن کے اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں انسان کے ساتھ بار بار مشقت حالات پیش آئیں، اِس کو مختلف قسم کی مشکلات سے گزرناپڑے۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ کسی بھی تدبیر کے ذریعہ اس قانون کو بدلا نہیں جاسکتا۔ ہر انسان کو لازماً اس امتحان سے گزرنا ہے۔ مشقتوں سے باہر اپنے سفر کے لیے کوئی آسان راستہ ممکن نہیں۔ زندگی کو اس نہج پر کیوں بنایا گیا۔ یہ خود انسان کے فائدے کے لیے ہے۔ مشقتیں انسان کو انسان بناتی ہیں۔ مشقتیں انسانی شخصیت کی تعمیر کرتی ہیں۔ مشقتوں کے درمیان انسان کو وہ سبق اور وہ تجربہ حاصل ہوتا ہے جو اس کے ذہنی ارتقاء کے لیے ضروری ہے۔

مشکلات انسان کے ذہن کو جگاتی ہیں۔ مشکلات انسان کو سنجیدہ بناتی ہیں۔ مشکلات انسان کو

‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues

Printed page