Al-Risala · March 2004 · page 47

علم سے آغاز

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۴۷

”پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ پیدا کیا انسان کو علق سے۔ پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے، جس نے علم سکھایا قلم سے۔ انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ جانتا نہ تھا“۔ (العلق ١-٥) قرآن میں اترا ہوا یہ پہلا کلام الہی بتاتا ہے کہ کسی حقیقی عمل کا آغاز کیا ہے۔ یہ آغاز علم ہے۔ یعنی انسان کو باشعور بنانا۔ انسان کے اندر ذہنی تبدیلی لانا، انسان کے اندر فکری انقلاب پیدا کرنا۔ یہی انسانوں کے درمیان کسی حقیقی تحریک کا آغاز ہے۔ اس دنیا میں وہی انسانی تحریک کامیاب ہو سکتی ہے جو شعور کی بیداری سے اپنے کام کا آغاز کرے۔

علم طاقت ہے۔ علم اس دنیا میں سب سے بڑا ہتھیار ہے، ایک فرد کے لیے بھی اور پوری انسانیت کے لیے بھی۔ علم کا آغاز مائنڈ سے ہوتا ہے مگر وہ پوری خارجی دنیا کو مسخر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ علم کسی آدمی کی تکمیل ہے۔ علم کے بغیر کوئی انسان ادھورا انسان ہے۔ علم کے بعد وہ مکمل انسان بن جاتا ہے۔ علم سے خالی انسان صرف اپنی ذات کو جانتا ہے۔ علم کے حصول کے بعد آدمی پورے کائنات کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ علم کسی ناقص انسان کو ایک کامل انسان بنا دیتا ہے۔ کاؤنٹ ڈاؤن ہو رہا ہے قرآن کی سورہ نمبر ١٠٣ میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو حقیقی تعمیر کے لیے اُس چیز کی ضرورت ہے جس کو ٹائم مینجمنٹ کہا جاتا ہے۔ اس ٹائم مینجمنٹ کے بغیر کسی کے لیے حقیقی ترقی کو پانا ممکن نہیں۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:

” زمانہ گواہ ہے۔ بے شک انسان گھاٹے میں ہے۔ سواان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیا اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی“۔ العصر: ۱۔۳) ٣)

قرآن کی اس سورہ میں زندگی کی ایک اہم حقیقت کے بارہ میں انسان کو آگاہ کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ انسان ہر لمحہ زندگی سے موت کی طرف جا رہا ہے۔ ہر لمحہ انسان کا کاؤنٹ ڈاون ہو رہا ہے۔ یہ فطرت کا ایک لازمی قانون ہے۔ اس قانون کو دوبارہ الٹی طرف چلایا نہیں جا سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues

Printed page