میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۱۳
میرٹھ کا سفر
میرٹھ کے گیان پریشد کی طرف سے ڈاکٹر کے۔ سی گپتا نے پہلے ٹیلی فون پر بات کی۔ پھر ان کا خط مورخہ ۳۰ اگست ۲۰۰۳ ملا۔ اس میں مجھے میرٹھ کے دوروزہ پروگرام میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی ۔ اس پروگرام کا خاص مقصد کمیونل ہارمنی اور ریلیجس انڈراسٹینڈنگ تھا۔ ڈاکٹر کے ۔ سی گپتا میرٹھ کالج میں پولیٹیکل سائنس ڈپارٹمنٹ کے سابق ہیڈ ہیں۔ یہ پروگرام میرٹھ کی گیان پریشد اور میرٹھ کے حلقہ الرسالہ کے تعاون سے کیا گیا ۔
۶ ستمبر ۲۰۰۳ کی صبح کو چھ بجے اس سفر کے لیے بذریعہ روڈ روانگی ہوئی۔ یہ سفر ایک ٹیم کی صورت میں ہوا۔ اس سفر میں میرے ساتھ اور جو افراد شامل تھے ان کے نام یہ ہیں ۔ خالد انصاری، رجت ملہوترہ، ہارون رشید، پریا ملک، استھی ملہوترہ، نصرت الہی، فریدہ خانم۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ قدیم یونان میں ایک گروہ تھا جس کو مشائین (Travellers) کہا جاتا تھا۔ یہ گویا اسی قسم کا ایک قافلہ ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو میرے ہفتہ وار کلاس میں شریک ہوتے ہیں۔ وہ اسلام کو جدید حالات کے پس منظر میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ یہ گویا ذہنی بیداری کا ایک کام ہے۔ یہ سفر گویا ایک قسم کا چلتا پھرتا کلاس تھا۔ کیوں کہ میرا طریقہ ہے کہ میں سفر کے دوران پیش آمدہ حالات اور تجربات کے حوالہ سے گفتگو کرتا رہتا ہوں۔ اس طرح میرا سفر ایک قسم کا فکری سفر بن جاتا ہے۔ گذشتہ کل (۵ ستمبر) کو نیوجرسی سے جناب لئیق احمد نے ٹیلی فون پر بات کی ۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا میں بظاہر خوش حالی ہے مگر یہاں کا ہر انسان تناؤ (stress) کا شکار رہتا ہے۔ اس ذہنی تناؤ کو دور کرنے کے لیے عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ہفتہ کی چھٹیوں (weekend) کو گھر سے باہر جانے میں بتاتے ہیں۔ وہ کار کے ذریعہ کئی گھنٹہ سفر کر کے دور کے مقام پر جاتے ہیں تا کہ اپنا ذہنی تناؤ دور کر سکیں مگر عملی نتیجہ برعکس صورت میں نکلتا ہے۔
میں نے پوچھا کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ امریکا میں ہر چیز نظم کے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues