میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۱۴
ساتھ ہوتی ہے ۔ چنانچہ یہاں بہت سی ایجنسیاں ہیں جو تفریحی مقامات پر مختلف انداز کے تفریحی پروگرام کا انتظام کرتی ہیں۔ لوگ چھٹیوں کے دن ان کی فیس دے کر وہاں جاتے ہیں۔ وہ کار کے ذریعہ لمبا سفر طے کر کے جب وہاں پہنچتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہیں فوراً فلاں آئٹم میں شریک ہونا ہے۔ اس طرح ایک کے بعد ایک مختلف پروگرام آتے رہتے ہیں۔ لوگ خواہ تھکے ہوئے ہوں، یا ان کا دل نہ چاہتا ہو، مگر” آغا کیا کھاتا ہے، آغا پیسہ کھاتا ہے‘ کے اصول پر لوگ ہر حال میں ان میں شریک ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ تھکن اور بورڈم کے ساتھ واپس گھر لوٹتے ہیں تو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے تناؤ کو ختم نہیں کیا بلکہ مہنگی قیمت پر ایک نیا تناؤ خرید لیا ہے۔ لئیق صاحب نے بتایا کہ تناؤ کی اس قسم کو یہاں ہالی ڈے اسٹریس (Holiday Stress) کہا جاتا ہے۔
پچھلے دن (۵ ستمبر) جمعہ کا دن تھا۔ میں نے نظام الدین کی کالی مسجد میں نماز ادا کی۔ امام صاحب نے خطبہ سے پہلے اپنی تقریر میں بتایا کہ ۱۹۴۷ میں یہ مسجد کچھ ہندوؤں کے قبضہ میں چلی گئی تھی ۔ ہم نے دوبارہ قبضہ کر کے اس کو آباد کرنا چاہا تو پولیس کیس بن گیا اور عدالتی کارروائی کی نوبت آگئی۔ عدالت کے سامنے یہ سوال تھا کہ کیا ۱۵ اگست ۱۹۴۷ سے پہلے یہ عمارت ایک مسجد تھی اور وہ مسجد کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ ہندو جج نے تین آدمیوں کی گواہی پر مسجد کے حق میں اپنا فیصلہ دیا۔ یہ تینوں دہلی کے تین ہندو تھے۔ ان میں سے ایک برہمن تھا، دوسرا بنیا اور تیسرا ہریجن۔ کالی مسجد تقریباً ۸۰۰ سال پہلے تغلق دور میں بنائی گئی تھی۔ میں ۱۹۸۳ سے اس مسجد میں نماز پڑھتا رہا ہوں ۔ پہلے یہ مسجد تقریباً کھنڈر کی حالت میں تھی۔ اب یہاں مسجد کی شاندار بلڈنگ کھڑی ہوئی ہے۔ یہ ایک علامت ہے جو بتاتی ہے کہ اس ملک میں ملت مسلمہ کا مستقبل دن بدن بہتر حالت کی طرف جا رہا ہے۔
مجھے یاد آتا ہے کہ ۴۰ سال پہلے میں یوپی میں اپنے آبائی گاؤں میں رہتا تھا۔ میرے گھر کے قریب ایک مسجد تھی۔ اس میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ میں ہی مؤذن ہوتا تھا اور میں ہی امام اور مقتدی۔ خاص طور پر عشاء کی نماز مجھے اس طرح پڑھنا ہوتا تھا کہ میں لالٹین لے کر مسجد جاتا جو گاؤں کے باہر
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues