Al-Risala · June 2004 · page

۱۷- لڑکیوں کے ساتھ حسن سلوک

الرسالہ، جون ۲۰۰۴

۱۷- لڑکیوں کے ساتھ حسن سلوک

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے یہاں لڑکی ہو۔ پھر وہ نہ اُس کو زمین میں گاڑے اور نہ اس کی تحقیر کرے اور نہ اُس پر اپنے لڑکے کو ترجیح دے تو اللہ اُس کو جنت میں داخل کرے گا۔ (من كانت له انثى فلم يئدها ولم يهنها و لم يؤثر ولده عليها (یعنی الذكور) ادخله الله الجنة)۔

سنن ابی داؤد، کتاب الأدب

حسن سلوک ایک ایسی نیکی ہے جو ہر مرد اور عورت کے ساتھ مطلوب ہے۔ مگر لڑکیوں کے سلسلہ میں اس کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ غریب طبقہ کے لوگ لڑکیوں کو اپنے اوپر بوجھ سمجھ لیتے ہیں۔ اس بنا پر وہ اُن کے معاملہ میں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی طور پر ادا نہیں کر پاتے۔ دولت مند طبقہ اپنے مخصوص لائف اسٹائل کی بنا پر خود اپنے لیے زندگی کی خوشیوں کو تلاش کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ وہ اپنی لڑکیوں کو آزاد چھوڑ دیتا ہے۔ اس آزادی کے نتیجہ میں لڑکیاں اپنی ابتدائی عمر ہی میں تباہ کن غلطیوں کا شکار ہو کر رہ جاتی ہیں۔

ایسی حالت میں لڑکیاں اپنے سرپرستوں کے لیے نازک ذمہ داری کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس ذمہ داری کو ادا کرنا اسلام کی تعلیمات میں سے ایک اہم تعلیم ہے۔ اس ذمہ داری کو ادا کیے بغیر کوئی شخص اپنے رب کے یہاں بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔

۱۸- بے سہارا لڑکیوں کی خدمت

سراقہ بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کونہ بتاؤں کہ افضل صدقہ کیا ہے۔ تمہاری لڑکی جو (بیوی گی یا طلاق کی وجہ سے) تمہاری طرف لوٹادی جائے۔ تمہارے سوا کوئی اس کے لیے کمانے والا نہ ہو (عن سراقہ بن مالک ان النبي ﷺ قال : الا ادلكم على افضل الصدقة ابنتك مردودة اليك ليس لها كاسب غيرك )

سنن ابن ماجہ، بحوالہ مشکوٰة المصابیح، جلد ۳، صفحہ ۱۳۹۳ (رقم الحدیث ۵۰۰۲)

‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues

Printed page