Al-Risala · June 2004 · page

19۔ نجات کا ذریعہ

الرسالہ، جون ۲۰۰۴

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک عورت طلاق کی وجہ سے یا بیوہ ہوجانے کی وجہ سے اپنے سسرال میں نہیں رہ سکتی اور وہاں سے واپس ہو کر اپنے باپ کے پاس آجاتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایسی عورت سماج میں بے سہارا بن جاتی ہے۔ لیکن اس کا بے سہارا ہونا اس کے والدین کے لیے اخلاقی خدمت کا ایک اعلیٰ موقع عطا کرتا ہے۔ اگر اس کے والدین ایسی خاتون کو دوبارہ قبول کر لیں، اُس کے لیے نئی زندگی کے مواقع تلاش کریں، اُس کو پھر سے سماج کا ایک باعزت ممبر بنانے کی کوشش کریں، اُس کو از سر نو ایک کامیاب زندگی گزارنے کے قابل بنائیں تو اُن کا یہ عمل خدا کے یہاں ایک عظیم عمل شمار کیا جائے گا اور وہ اپنے اس عمل کی بنا پر آخرت کی دنیا میں خدا کے عظیم تر انعام کے مستحق قرار پائیں گے۔

19۔ نجات کا ذریعہ

عائشہ صدیقہ کی ایک طویل روایت کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ جس شخص کو لڑکیوں کے ذریعہ کچھ آزمائے پھر وہ اُن کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو وہ اس کے لیے آگ سے بچاؤ کا ذریعہ ہوں گی (من ابتلی من البنات بشیء فأحسن الیہن کن لہ سترا من النار) فتح الباری لابن حجر العسقلانی، جلد ۳، صفحہ ۳۴۳ (رقم الحدیث ۱۴۱۸)

بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی سبب سے ایک لڑکی اپنے والدین کے لیے سرمایہ (asset) کے بجائے بوجھ (liability) محسوس ہونے لگتی ہے۔ مگر اسلام کی تعلیم کے مطابق، ایسی لڑکی اپنے ماں باپ کے لیے ایک اور پہلو سے بہت بڑی نعمت ہے۔ وہ والدین کے لیے آخرت کے زیادہ بڑے انعامات حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

تا ہم یہ بات اتنی سادہ نہیں۔ یہ در اصل عُسر میں یسر کی ایک صورت ہے۔ والدین اگر ایسی لڑکی کے لیے اچھی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں اور اُس کو زندگی کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے قابل بنائیں تو عین ممکن ہے کہ وہ لڑکی تیار ہو کر اپنے خاندان کے لیے ایک نعمت بن جائے۔ اُس کے ذریعہ سے خاندان میں مثبت طرزِ فکر پروان چڑھے۔ اُس کے ذریعہ سے گھر میں تعمیری ماحول پیدا ہو۔ وہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues

Printed page