Al-Risala · April 2004 · page 59

The Bible, The Qur'an and Science

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۵۹

ساتھ جاری رکھے اور اس کو ترقی کے اعلیٰ منازل تک پہنچائے اور ان کے پس ماندگان کے لیے حسن تلافی کا انتظام فرمائے۔ مولانا اکبر الدین صاحب کی موت راقم الحروف کے لیے ایک ذاتی حادثہ کی حیثیت رکھتی ہے)۔

۸ ستمبر ۲۰۰۳ کی صبح کو میرٹھ سے واپس ہو کر دہلی پہنچا۔ واپسی کا یہ سفر اُسی سڑک سے ہوا جس سڑک سے پہلی بار میں میرٹھ گیا تھا۔ میرٹھ میں قیام کے دوران اور بھی کئی واقعات پیش آئے ۔ مگر سفر نامہ میں اُن کو درج نہ کیا جا سکا۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ زندگی کا ہر سفر نامکمل ہے، خواہ اُس کے ہر لمحہ کو الفاظ کی صورت دے کر کاغذ پر لکھ دیا جائے ۔ حقیقت کی دنیا غیر محدود ہے اور الفاظ کی دنیا محدود۔ پھر محدو دکس طرح غیر محدود کا احاطہ کر سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page