Al-Risala · April 2004 · page 58

The Bible, The Qur'an and Science

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۵۸

مثال کے طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک حدیث سے اولموا (ولیمہ کرو) کا لفظ لے لیں گے۔ اور اپنی شادیوں میں ولیمہ کے نام پر اتنا زیادہ خرچ کریں گے جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے شیطانی طریقہ پر عمل کرنا ہوگا، نہ کہ سنت کے طریقہ پر عمل کرنا۔

۲۶۔ ایک صاحب نے کہا کہ امت میں آج اتنا زیادہ اختلاف ہے۔ بے شمار جماعتیں اور تنظیمیں بنی ہوئی ہیں۔ اس کی وجہ سے پوری امت انتشار میں مبتلا ہے۔ ایسی حالت میں اتحاد کی کیا صورت ہوسکتی ہے۔ میں نے کہا کہ اتحاد ہمیشہ اختلاف کے باوجود ہوتا ہے، نہ کہ اختلاف کے بغیر۔ اتحاد کا راز اختلاف کو برداشت کرنا ہے، نہ کہ اختلاف کو مٹانا۔ حقیقت یہ ہے کہ رایوں کا اختلاف یا تنظیموں کی کثرت ایک فطری امر ہے۔ یہ چیز بجائے خود کوئی مسئلہ نہیں۔ جو چیز مسئلہ پیدا کرتی ہے وہ انتہا پسندی (extremism) ہے جس کو قرآن و حدیث میں غلو کہا گیا ہے۔

اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ حیدر آباد میں مولانا سید اکبر الدین قاسمی (ایم اے عثمانیہ) کا تجربہ اس معاملہ کی ایک کامیاب مثال ہے۔ وہ اپنا ایک واضح مسلک رکھتے ہیں۔ وہ اپنا مستقل ادارہ بھی چلا رہے ہیں۔ وہ ہمارے مشن کے ساتھ بالکل شروع سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ پابندی کے ساتھ ماہنامہ الرسالہ کی ایجنسی (۲۵ کاپیاں) چلا رہے ہیں۔ اس کے باوجود ان کا نہایت خوش گوار تعلق ہر جماعت اور ہر تنظیم سے ہے۔ اس کا سبب ان کی اعتدال پسندی ہے۔ اپنے متحمل مزاج کی بنا پر وہ طبقہ کے درمیان مقبول ہیں۔ وہ ایک مغربی مفکر کے ایک قول کی ایک معیاری مثال ہیں۔ میرے اندر اتنا زیادہ وسعت ہے کہ تمام تضادات کو اپنے اندر سموسکوں : I am large enough to contain all these contradictions. یہی وسعت نظری اور اعتدال پسندی اتحاد اور اتفاق کی اصل ضمانت ہے۔

(افسوس کہ مولانا سید اکبر الدین قاسمی ایک کار ایکسیڈنٹ میں شدید طور پر زخمی ہو گئے ۔ اور ایک ہفتہ اسپتال میں رہ کر ۲۸ جنوری ۲۰۰۴ کو انتقال کر گئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔ وہ حیدر آباد میں بہت بڑا تعلیمی کام کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس کام کو حسن خوبی کے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page