چند احادیث
الرسالہ، جون ۲۰۰۴
چند احادیث
حدیث کی کتابوں میں کوئی کتاب کتاب النسماء جیسا چیپٹر نہیں ہوتا۔ تاہم مختلف موضوعات کے تحت عورتوں کے بارہ میں کثرت سے ایسی روایتیں آئی ہیں جو عورتوں کے بارہ میں اسلام کی تعلیم کو بتاتی ہیں۔ ان روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کا درجہ انسانی سماج میں کیا ہے۔ یہاں حدیث کی مختلف کتابوں سے اس قسم کی کچھ روایتیں نقل کی جاتی ہیں۔ یہ روایتیں بتاتی ہیں کہ اسلام کے نقشۂ حیات میں عورت کا مقام کیا ہے۔
۱۔ عورت نصف انسانیت
پیغمبرِ اسلام کی اہلیہ عائشہ صدیقہ سے ایک مسئلہ پوچھا گیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کا ایک سوال کیا گیا تھا۔ اس مسئلہ کا جواب دیتے ہوئے آپ نے مزید فرمایا: عورتیں بلاشبہ مرد کا شقیقہ ہیں (انما النساء شقائق الرجال) ابوداؤد، كتاب الطهارة، الترمذی، کتاب الطهارة، مسند احمد ۲۵۶/۶۔
شقیق یا شقیقہ عربی زبان میں، کسی چیز کے درمیان سے پھٹے ہوئے دو برابر برابر حصے کو کہتے ہیں۔ اسی سے درِ شقیقہ بولا جاتا ہے۔ یعنی وہ درد جو سر کے آدھے حصے میں ہو۔ اوپر کی روایت میں اسی مفہوم میں عورت کو مرد کا شقیقہ کہا گیا ہے۔ یہ عورت کی حیثیت کی نہایت صحیح تعبیر ہے۔ اسلام کے مطابق ، عورت اور مرد دونوں ایک گُل کے دو برابر برابر اجزاء ہیں۔ اس گُل کا آدھا عورت ہے اور اِس کا آدھا مرد ۔ اس اعتبار سے یہ بات عین درست ہوگی کہ عورت کو نصفِ انسانیت کا لقب دیا جائے۔ ۲۔ اخلاق کا معیار عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے اچھا ہو۔ اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم میں سب سے اچھا ہوں ۔ اور جب تمہارا ساتھی انتقال کر جائے تو تم اُس کے لیے دعا کرو (خير كم خير كم لأهله و أنا خيركم
‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues