۳ - شرافت کی پہچان
الرسالہ، جون ۲۰۰۴
لأھلی و اذا مات صاحبکم فدعوه ) الترمذی، الدارمی، بحوالہ مشکوۃ المصابیح، جلد ۲، صفحہ ۲۱۷۹ (رقم الحدیث ۳۲۵۲)
گھر کی زندگی میں شوہر اور بیوی مستقل طور پر ایک ساتھ رہتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں بار بار ایک کو دوسرے سے شکایت پیدا ہوتی ہے۔ غصہ اور نفرت کے جذبات جاگتے ہیں۔ ایسی حالت میں حُسنِ اخلاق کا سب سے بڑا آزمائشی مقام اٗس کا اپنا گھر ہے۔ جو مرد اپنے گھر کے اندر بہتر سلوک کا ثبوت دے وہ اخلاقی امتحان میں کامیاب ہو گیا۔ اسی طرح جو عورت اپنے گھر کے اندر حُسنِ سلوک پر قائم رہے اٗس نے آزمائش میں کامیابی حاصل کی۔ ایسے عورت یا مرد باہر کی زندگی میں بھی کامیاب رہیں گے۔
گھر کی زندگی میں جب ایک ساتھی کو موت آجاۓ اور دوسرا ساتھی زندہ رہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ زندہ کے دل میں وفات یافتہ کے بارہ میں غم اور ماتم کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ مگر اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ایسے حادثہ کے موقع پر اپنے جذبات کا رخ دعا کی طرف کر دیا جائے ۔ جو کچھ دنیا میں کھویا گیا ہے اُس کو آخرت میں پانے کی کوشش کی جائے۔
۳ - شرافت کی پہچان
ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کی عزت وہی شخص کرے گا جو شریف ہو اور عورتوں کو وہی شخص بے عزت کرے گا جو کمینہ ہو (ما اکرم النساء الا کریم و ما اھانهن الا لئیم)
عزت اور مرتبہ کے لحاظ سے عورت اور مرد دونوں برابر کا درجہ رکھتے ہیں۔ مگر زندگی کے نظام میں دونوں کے درمیان تقسیمِ کار کا اصول رکھا گیا ہے۔ مرد پر نسبتاً سخت کام کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے اور عورت کو مقابلہ نرم کام کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس تقسیم کار کی بنا پر عورت اور مرد کی جسمانی بناوٹ میں فرق رکھا گیا ہے۔ مرد جسمانی اعتبار سے زیادہ قوی ہے اور عورت جسمانی اعتبار سے نسبتاً غیر قوی ہے۔
الرّساله
‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues