خدا کا کریشن پلان
الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۲
خدا کا کریشن پلان
خدا نے ایک دنیا بنائی، بے حد خوب صورت، ہر قسم کے کھلے مواقع، اور راحت کے ہر اعلیٰ سامان سے بھری ہوئی، خود خدا کے واحد استثناء کے بعد تمام موجودات میں سب سے بہتر چیز۔ قرآن کے مطابق، اس جنتی دنیا میں دو چیزیں وافر مقدار میں رکھ دی گئیں۔ ایک نعمت اور دوسرے آزادی (الدھر ۲۰) اس دنیا میں ایک طرف ہر قسم کی نعمتیں تھیں اور دوسری طرف کامل آزادی کا ماحول۔ خدا نے اس حسین دنیا کا نام جنت رکھا۔
اب خدا نے چاہا کہ وہ ایک مخلوق پیدا کرے، جس کو اس حسین دنیا میں بسایا جاسکے، جو اس دنیا سے بھر پور طور پر متمتع ہو، جس سے خدا خوش ہو اور جو خدا سے خوش۔ (البینۃ ۸) اس کے بعد خدا نے اپنے تخلیقی نقشہ کے مطابق، انسان کو پیدا کیا۔ یہ انسان جوڑے کی صورت میں تھا جس کو آدم اور حوا کہا جاتا ہے۔ خدا نے اپنے اس منصوبہ کا اعلان کرتے ہوئے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں (البقرہ ۳۰) خلیفہ کے معنی عربی زبان میں، جانشین یا قائم مقام کے ہیں۔ یعنی بعد کو آنے والا یا کسی کی جگہ لینے والا۔ اسی لیے صاحب جلالین نے قرآن کی آیت: انی جاعل فی الارض خلیفۃ کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے: خلیفۃ يُخلفني في الارض (ایک خلیفہ جو زمین میں میری جگہ لے گا) اسی خلافت کو قرآن میں دوسرے مقام پر الأمانة (الاحزاب ۷۲) کہا گیا ہے۔ یہاں امانت سے مراد اختیاراتہ اطاعت ہے۔
اصل یہ ہے کہ خدا ساری کائنات کا واحد بادشاہ ہے۔ زمین و آسمان میں بلا شرکت صرف اسی کا اقتدار قائم ہے۔ ستارے اور سیارے، سورج اور چاند، سمندر اور پہاڑ، حیوانات اور نباتات، غرض پورا عالم موجودات براہ راست طور پر خدا کی سلطنت کے تابع ہیں۔ ہر چیز ادنیٰ انحراف کے بغیر خدا کے زیر حکم ہے۔
اس عموم میں خدا نے صرف ایک جزئی استثناء رکھا اور وہ انسان کا استثناء تھا۔ خدا نے اپنی وسیع