خدا کا کریشن پلان
الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۳
سلطنت کا ایک بہت چھوٹا حصہ (زمین) کو انسان کے نام گویا الاٹ کر دیا۔ اور پھر خدا نے انسانی جوڑے سے کہا کہ تم میری اس دنیا میں آزادانہ طور پر رہو اور اس کی نعمتوں سے جس طرح چاہو فائدہ اٹھاؤ۔ تاہم خدا نے ایک درخت کے بارے میں یہ ہدایت کی کہ تم اس درخت سے دور رہنا۔ یہ درخت ایک علامتی درخت تھا۔ وہ اس بات کا ایک نشان تھا کہ انسان اگرچہ آزاد ہے مگر اس کی آزادی لامحدود آزادی نہیں ہے بلکہ وہ خدا کے بالا تر اقتدار کے ماتحت ہے۔ یہ آزادی خدا کے بالا تر اقتدار کے تحت ایک قسم کی محدود آزادی تھی۔ مگر انسان (آدم وحوا) اس ابتدائی امتحان میں پورے نہ اترے۔ دونوں نے ممنوعہ درخت کا پھل کھالیا (الاعراف (۲۲) اس کے بعد خدا نے انسان کو جنت کی دنیا سے نکال کر موجودہ زمین میں بسا دیا اور کہا کہ تم لوگ اس زمین پر قیام کرو اور یہاں اپنی نسل کو بڑھاؤ۔ یہاں تم خدا کی نگرانی میں رہو گے۔ پھر ایک وقت آئے گا جب کہ خدا تمہارے اوپر عدالت قائم کرے گا اور تم میں سے صالح لوگوں کو انعام دے گا اور برے لوگوں کو سزا دے گا۔ اس خدائی نقشہ کے مطابق، وہ وقت آنے والا ہے جب کہ انسان کو جنت میں دوبارہ داخلہ (re-entry) ملے۔ تخلیق کے پہلے نقشہ میں انسان کو پیدائشی طور پر (by birth) جنت میں داخلہ مل گیا تھا مگر انسان اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت نہ کر سکا۔ اس لیے خدا نے تخلیق کے دوسرے مرحلہ میں یہ اصول مقرر کیا کہ جنت میں داخلہ انتخابی بنیاد (selective basis) پر ہو۔ موجودہ دنیا میں انسان اپنے امتحانی مرحلہ میں ہے۔ جو لوگ یہاں اس امتحان کو کوالیفائی (qualify) کریں انہی کو جنت میں داخلہ ملے گا اور جو لوگ اس امتحان میں پورے نہ اتریں ان کو رد کر کے انہیں کائنات کے کوڑے خانہ (dustbin) میں ڈال دیا جائے گا۔
موجودہ زمین پر انسان کو جوٹسٹ دینا ہے اس کے دو بنیادی پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ وہ دنیا کی نعمتوں کا استفادہ اس طرح کرے کہ وہ نعمت کے استعمال کے ساتھ بھر پور طور پر منعم کا اعتراف کر رہا ہو۔ زمین پر رہتے ہوئے منعم کا کامل اعتراف کرنا یہی وہ صفت ہے جو کسی کو اس قابل بناتی ہے کہ اس کو جنت کی ابدی نعمتوں میں جینے کا حق دیا جائے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ دنیا میں ملی ہوئی آزادی کو وہ