ر ی س مان صاحب
الرسالہ، جون ۲۰۰۴
الگ ہیں۔ ایک ہے، فخر کے جذبہ کے تحت سوچنا اور دوسرا ہے، دعوت کے جذبہ کے تحت سوچنا۔ فخر کے جذبہ کے تحت سوچنے والوں کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ اپنی محبوب شخصیت کا کمال بتا کر مطمئن ہو جائیں اور اس کو بیان کر کے اپنے آپ کو خوش کرتے رہیں۔
سوچ کا دوسرا طریقہ وہ ہے جو دعوتی مقصد پر مبنی ہو۔ ایسے لوگ اس قسم کے معاملہ کو دعوتی امکان کے روپ میں لیں گے۔ وہ اس میں اپنے لیے مستقبل کا نقشہ کا ر دریافت کر لیں گے۔ اُن کی سوچ اُنہیں یہ بتائے گی کہ جب زیادہ دور رس کام کے مواقع ہوں تو چھوٹے چھوٹے کاموں میں وقت ضائع کرنا نادانی ہے۔ جب اسلام دلوں کو فتح کرنے کی پوزیشن میں ہو تو چھوٹی چھوٹی شکایتوں کو لے کر احتجاجی مہم چلانا صرف دیوانگی ہے۔ جب دینِ اسلام کے لیے نیا مستقبل پیدا کرنے کا موقع ہو تو شخصی کمال کو لے کر خوش ہونا اس شعر کا مصداق ہے کہ:
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا ورنہ گلشن میں علاجِ تنگی داماں بھی ہے رتیوں پر یوتیرن پر ٹیا ر یا۔
ر ی س مان صاحب
‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues