ر ی س مان صاحب
الرسالہ، جون ۲۰۰۴
ماہنامہ جامع نور دہلی کا سوالنامہ برائے جہاد نمبر ۱۔ قرآن اور احادیث کی روشنی میں نظریہ جہاد کی وضاحت فرمائیں۔
۲۔ مختلف ملکوں میں جو تنظیمیں جہاد کے نام پر جدوجہد کر رہی ہیں ان سے جزوی یا کلی طور پر آپ کہاں تک متفق ہیں۔
۳۔ جہادی جدوجہد کے تحت عام شہریوں کو جو نشانہ بنایا جا رہا ہے کیا یہ عمل اسلامی نظریہ جہاد سے ہم آہنگ ہے۔
۴۔ کیا جہاد کے نام پر اسلام خودکش حملے کی اجازت دیتا ہے۔
۵۔ استعماری قوت سے اپنی آزادی یا اپنی تہذیب و ثقافت کے تحفظ یا مسلم ممالک کے قدرتی وسائل کو استحصال سے بچانے کے لیے یا باطل قوتوں کی نا انصافیوں اور ظلم و تغلب کے خلاف تنظیمیں جہاد کے نام پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں ان کے نتائج اب تک کتنے مثبت اور کتنے منفی ہوئے۔
۶۔ جن مقاصد کے حصول و تحفظ کے لیے جہادی تنظیموں نے جو طریقے اپنائے، کیا ان مقاصد کے حصول کے لیے یہی ایک راہ ہے۔ یا دوسرے طریقے بھی اپنائے جا سکتے ہیں۔ ۷۔ حکم جہاد کے نفاذ اور اس کو عملی طور پر شروع کرنے کے لیے کسی امام، خلیفہ یا قائد کے تعین کا اسلامی طریقہ کیا ہے اور اس کے تقاضے کیا ہیں۔
۸۔ جہاد کو غلط طور پر پیش کر کے مسلمانوں کے خلاف عالمی پیمانے پر جو سازشیں رچی جا رہی ہیں اور ان پر ہر طرح کے ظلم اور نا انصافی کو روا رکھا جا رہا ہے اس کا دفاع کس طرح ممکن ہے۔ ۹۔ مستشرقین اور یورپ کے منصوبہ سازوں نے اسلام کے پاکیزہ نظریہ جہاد کے خلاف امت مسلمہ کے دانشوروں اور نئی نسلوں کو ذہنی طور پر متاثر کیا ہے اس کی صفائی کس طرح ہو سکتی ہے۔ ۱۰۔ اگر کسی جگہ اپنی شرائط کے پیش نظر جہاد صحیح ہو تو اس کے نفاذ کی ذمہ داری عوام پر عائد
‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues