نئی دہلی، ۱۸ مارچ ۲۰۰۴ دعا گو وحیدالدین
الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۴۸
پریس ریلیز جناب ایڈیٹر صاحب سلام وتحیت مولاناسییداکبرالدین قاسمی کی وفات پر اسلامی مرکز کے صدرمولانا وحیدالدین خاں نے گہرے رنج وغم کااظہارکیاہے۔ مولانا اکبرالدین مرحوم کی اچانک وفات ملت کےلیے ایک صدمہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ مولانا مرحوم نہ صرف دارالعلوم دیوبندکے فارغ تھےبلکہ انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی (حیدرآباد)سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ حیدرآبادمیں طلبہ اور طالبات کے مدر سے کامیابی کےساتھ چلارہےتھے۔ خداان کے لگائے ہوئے اس تعلیمی باغ کومزیدترقی کےساتھ جاری رکھے۔ مولانا اکبرالدین مرحوم منفردخصوصیات کےحامل تھے۔ وہ تحریر وتقریر دونوں کی اعلیٰ صلاحیت رکھتے تھے۔ وہ اخلاقی اعتبار سےایک قابل تقلید شخصیت تھے۔ اپنےمخصوص مزاج کی بناپر وہ ہر حلقہ میں یکساں طور پر مقبول تھے۔ وہ اس نادر صفت کی ایک مثال تھےکہ کس طرح مختلف ذوق اورمختلف فکر کے لوگوں سے یکساں طور پر اچھے تعلقات قائم کئے جاسکتے ہیں۔ ہر معاملہ میں ان کی اپنی ایک رائے ہوتی تھی مگر اس کے ساتھ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ دوسروں کی رائے کا کس طرح لحاظ رکھا جائے۔ مولانا مرحوم نے اپنے تعلیمی اداروں کے ساتھ ایک ماہنامہ "ردائے حرم" کے نام سے جاری کیا تھا۔ اس ماہنامہ کا خاص مقصد یہ تھا کہ لڑکیوں اور عورتوں میں اسلامی تعلیم کو فروغ دیا جائے۔ یہ ماہنامہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہوچکاہے۔ امید ہے کہ انشاءاللہ وہ اپنی پوری افادیت کے ساتھ بدستور جاری رہے گا۔ مولانا مرحوم اپنے قائم کردہ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری نباہنے کے ساتھ متعدد دوسرے اداروں سے بھی وابستہ تھے۔ وہ اپنی متنوع خدمات کے ساتھ ایک جامع صفات آدمی تھے۔ خدا سے دعا ہے کہ ان کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے اس کی حسن تلافی کا انتظام فرمائے۔
۴ فروری ۲۰۰۴ شعبہ نشرواشاعت، اسلامی مرکز، نئی دہلی