Al-Risala · May 2004 · page 47

نئی دہلی، ۱۸ مارچ ۲۰۰۴ دعا گو وحیدالدین

الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۴۷

اگرچہ بظاہر وفات پانے والے بچے کی نسبت سے ہے۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ والدین کی نسبت سے ہے۔ یعنی والدین کو چاہیے کہ وہ اس حادثہ کو اسی اسپرٹ کے ساتھ لیں، وہ اُس کو کھوئی ہوئی چیز کے طور پر لینے کے بجائے ایک محفوظ سرمایہ کی حیثیت سے قبول کریں۔ وہ اس کے مطابق، خدا سے اپنے لیے دعا کریں۔

اسلام کا یہ عقیدہ ایک بندۂ خدا کے لیے عظیم نعمت ہے۔ یہ گویا ایک کھوئے ہوئے سرمایہ کو دوبارہ کیش کرنا ہے۔ یہ عارضی دنیا میں ہونے والے ایک نقصان کو مزید اضافہ کے ساتھ ابدی دنیا میں دوبارہ پالینا ہے۔

موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنا ہے۔ اس بنا پر موجودہ دنیا میں بار بار یہ صورت پیش آتی ہے کہ آدمی کو مصیبت کا تجربہ ہوتا ہے۔ یہ تجربہ عام حالات میں نا قابل برداشت ہو سکتا ہے۔ مگر اسلام کے عقیدہ نے اس نا قابلِ برداشت کو قابل برداشت بنا دیا ہے۔ یہ عقیدہ آدمی کو یہ بلند فکری دیتا ہے کہ وہ وقتی مسائل سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے۔ وہ اس کو یہ ہمت دیتا ہے کہ وہ کسی نقصان کو صرف وقتی نقصان سمجھے اور اپنی نگاہ ہمیشہ آگے کی طرف لگائے رہے۔ جس آدمی کا یہ عقیدہ نہ ہو، وہ صرف اپنے حال میں جئے گا۔ مگر جو آدمی اس عقیدہ کو پا چکا ہو وہ مستقبل میں اپنے لیے جینے کا سامان پالے گا۔

نئی دہلی، ۱۸ مارچ ۲۰۰۴ دعا گو وحیدالدین

‹ Previous page Next page › Contents of May 2004 All issues

Printed page