Al-Risala · June 2004 · page 10

Simple living, high thinking

الرسالہ، جون ۲۰۰۴، صفحہ ۱۰

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مال دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے قیام کا ذریعہ ہے (النساء ۵) مال کا بہترین استعمال یہ ہے کہ اس کو حقیقی ضرورت کی مد میں خرچ کیا جائے۔ مال کے معاملہ میں فضول خرچی کرنا اتنا برا کام ہے کہ جو مرد اور عورت ایسا کریں ان کو قرآن میں شیطان کا بھائی اور بہن بتایا گیا ہے (الاسراء ۲۷)

مال کے معاملہ میں فضول خرچی کا تعلق عورتوں سے بہت زیادہ ہے۔ قرآن کے مطابق، عورت اپنے مزاج کے اعتبار سے تزئین اور نمائش جیسی چیزوں کو بہت زیادہ پسند کرتی ہے (الزخرف ۱۸) اس بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گھروں میں تقریبات اور فرنیچر اور کپڑے اور دوسری مدوں میں مال کا جو غیر ضروری خرچ ہوتا ہے وہ زیادہ تر عورتوں کے ذوق کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مال کا صحیح خرچ اور اس کا غلط خرچ دونوں کا انحصار زیادہ تر عورت کے اوپر ہوتا ہے۔

اس بات کو مثبت انداز میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ کسی گھر کی کامیابی کا راز سادگی کلچر میں ہے، اور سادگی کلچر کا معاملہ تمام تر عورت کے اوپر منحصر ہوتا ہے۔ سادگی بظاہر ایک معمولی چیز ہے مگر عملی اعتبار سے دیکھیے تو وہ زندگی کی اہم ترین قدر کی حیثیت رکھتی ہے۔ جہاں سادگی ہوگی وہاں ہر دوسری چیز اپنے آپ موجود ہوگی۔ کسی نے بہتر زندگی کا فارمولا درست طور پر ان الفاظ میں پیش کیا ہے۔ سادہ زندگی اور اونچی سوچ:

Simple living, high thinking

سادگی اور اونچی سوچ دونوں ایک دوسرے سے لازمی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ جہاں سادگی ہوگی وہاں اونچی سوچ ہوگی۔ اور جہاں اونچی سوچ ہوگی وہاں سادگی بھی ضرور پائی جائے گی ۔ سادگی کا مطلب ہے، حقیقی ضرورت اور غیر حقیقی ضرورت میں فرق کرنا۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ غیر حقیقی ضرورت کو اپنی ضرورت سمجھ لینا اور اسی کے لیے مال خرچ کرنا ایک ایسی بری عادت ہے جو آدمی کے اندر ذہنی ارتقاء (intellectual development) کے عمل کو روک دیتی ہے۔ اس کے برعکس غیر حقیقی ضرورت کو نظر انداز کرنا اور صرف حقیقی ضرورت پر اپنا مال خرچ کرنا آدمی کو یہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues

Printed page