Al-Risala · June 2004 · page 11

Simple living, high thinking

الرسالہ، جون ۲۰۰۴، صفحہ ۱۱

موقع دیتا ہے کہ وہ ذہنی ترقی کے عمل میں مصروف ہو۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ فضول خرچی اور اعلیٰ انسانیت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ اعلیٰ انسانیت کے لیے سادہ زندگی ضروری ہے۔

کسی گھر کو سادگی کے اصول پر چلانا صرف عورت کا کام ہے۔ عورت اگر صرف یہی ایک کام کرے کہ مال کے حسن انتظام کے ذریعہ وہ گھر کے اندر سادگی کلچر کورائج کر دے تو یہ اتنا بڑا کام ہوگا کہ اس ایک کارنامہ کی بنا پر اس کو معمار انسانیت کا لقب دیا جا سکتا ہے۔ سادگی با اصول زندگی کی علامت ہے۔ اسی طرح انتظام مال(money management) منصوبہ بند زندگی کی علامت ۔ جو لوگ ایسا کریں وہ گویا زندگی میں ترجیحات (priorities) کو جانتے ہیں۔ انہوں نے بے مقصد زندگی کا طریقہ چھوڑ کر با مقصد زندگی کے طریقہ کو اختیار کیا۔ انہوں نے حیوانی سطح کی زندگی سے اوپر اٹھ کر انسانی سطح کی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو دنیا میں بھی خدا کا انعام ملتا ہے اور آخرت میں بھی وہ خدا کے انعام کے مستحق قرار پائیں گے۔ قرآن کے الفاظ میں وہ حسنات دنیا کے بھی حصہ دار ہیں اور حسنات آخرت کے بھی حصہ دار۔ ۱۱۔ زندگی کی عظیم نعمت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار چیزیں ہیں جن کو وہ دی گئیں تو اس کو دنیا اور آخرت کی تمام بھلائی دے دی گئی۔ شکر کرنے والا دل اور ذکر کرنے والی زبان اور مصیبتوں پر صبر کرنے والا بدن اور ایسی بیوی جس کے نفس اور اپنے مال میں اس کو کوئی ڈر نہ ہو(عن ابن عباس ان رسول الله ﷺ قال: اربع من أعطيهن فقد اعطى خير الدنيا والآخرة قلب شاكر ولسان ذاكر و بدن على البلاء صابر و زوجة لا تبغيه خوفا في نفسها ولا مالـه)

البيهقى ، بحوالہ مشکوٰة المصابيح، جلد ۲، صفحہ ۷۲۹ (رقم الحدیث ۳۲۷۳) ایسی بیوی جس کے نفس اور اپنے مال میں اس کو کوئی ڈر نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی

‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues

Printed page