سوچنے کا طریقہ
الرسالہ، جون ۲۰۰۴، صفحہ ۲۰
تو کم از کم ہم جیسے لوگ تو اسلام سے بہت قریب آجائیں گے۔ ۔ بعد میں بستی میں یہ بھی مشہور ہوا کہ عمر کے آخری حصے میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، واللہ اعلم۔ بہر حال عجیب و غریب اثر رکھا تھا اللہ نے مولانا محمد منظور نعمانی کی تقریر اور تحریر میں۔ ‘‘ (صفحہ ۱۵) مذکورہ واقعہ پچاس سال سے بھی زیادہ پہلے ۱۹۵۳ میں پیش آیا۔ یہ واقعہ ہندوستان میں عظیم دعوتی امکان کو بتا رہا تھا۔ اس اعتبار سے اس میں علماء کے لیے یہ اہم رہنمائی موجود تھی کہ اس ملک میں انہیں کیا کرنا چاہیے۔ اُس وقت ملک میں بڑے بڑے علماء موجود تھے مگر اس پہلو سے کچھ بھی نہ کیا جاسکا۔ اس کا سبب سوچنے کا ایک غلط طریقہ تھا۔ جیسا کہ اقتباس سے واضح ہے، لوگوں نے اس واقعہ کو صرف مقرر کی شخصی تعریف کے معنی میں لیا۔ وہ یہ سوچ کر خوش ہو گئے کہ ہمارے فلاں عالم عجیب و غریب قسم کی تقریر کرتے ہیں۔ اُن کی تقریر میں سحر انگیز اثر پایا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں سوچنے کا دوسرا زیادہ صحیح طریقہ یہ تھا کہ اُس کو دعوتی امکان کے پہلو سے لیا جاتا۔ یعنی یہ کہ اس ملک میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جو دینِ حق کو اپنے دل کی آواز سمجھ کر اُس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے بعد ہندوستان کے بڑے بڑے علماء کا ایک جلسہ کسی مرکزی شہر میں کیا جاتا۔ اس جلسہ میں یہ بتایا جاتا کہ واقعات کی روشنی میں ضروری ہو گیا ہے کہ ہندوستان میں دینی کام کے لیے ہم اپنے پورے نقشہ کو بدل دیں۔ اب یہاں کام کا نیا منصوبہ بنایا جائے۔ اس جلسہ میں بتایا جاتا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کرو، اس کے بعد ہی دوسروں میں دعوت کا کام کیا جاسکتا ہے، ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اعلان کریں کہ ہم غلطی پر تھے۔ مسلمانوں کی موجودہ اخلاقی حالت ہی میں یہاں دعوت کے غیر معمولی امکانات موجود ہیں جن کو ہمیں استعمال کرنا چاہیے۔ اسی طرح جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پہلے مکمل اسلامی نظام قائم کر کے دکھاؤ، اس کے بعد ہی دوسرے لوگ اسلام کی طرف راغب ہوں گے، ایسے لوگوں کی سوچ بھی سرتا سر غلط ہے۔ کیوں کہ واقعات بتاتے ہیں کہ ’’مکمل اسلامی نظام‘‘ کے نفاذ سے پہلے ہی خدا کے بندے اسلام کو اپنانے کے لیے تیار ہیں۔ اسی طرح جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس ملک کا اکثریتی طبقہ اسلام کا دشمن بن چکا ہے، وہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues