سوچنے کا طریقہ
الرسالہ، جون ۲۰۰۴، صفحہ ۲۱
ہمارا حریف ہے، نہ کہ مدعو، ایسے لوگوں کو بھی کھلے طور پر ماننا چاہیے کہ یہ سوچ بالکل غلط تھی۔ اس ملک کے اکثریتی فرقے کے اندر آج بھی اسلام کے لیے نرم گوشہ موجود ہے جس کو ہم حکمت کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں۔
اسی طرح ہندوستان میں بہت سے مسلمان ہیں جو آزادی (۱۹۴۷) کے بعد طرح طرح کے ناموں سے جزئی مقاصد کے لیے جماعتیں اور تنظیمیں بنائے ہوئے ہیں۔ ان سب کو کھلے طور پر یہ اعلان کرنا چاہیے کہ ہماری سوچ درست نہ تھی۔ اسلام کا سب سے بڑا کام دعوتی کام ہے۔ اور جب دعوتی کام کے روشن امکانات موجود ہوں تو ضروری ہو جاتا ہے کہ ہر دوسرے کام کو چھوڑ کر اپنی ساری طاقت دعوت کے محاذ پر لگادی جائے۔
اسی طرح جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ۱۹۴۷ کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کا جان و مال محفوظ نہیں، ان کی دینی اور ملی شناخت کو مٹایا جا رہا ہے۔ ایسے لوگوں کو بھی یہ کھلا اعلان کرنا چاہیے کہ مفروضہ یا غیر مفروضہ خطرہ کے باوجود اس ملک میں اسلام پوری طرح محفوظ ہے اور ہمارے لیے یہ امکان موجود ہے کہ ہم اسلام کے پیغام کو لے کر آگے بڑھیں اور پھر یقینی طور پر یہاں وہ منظر دکھائی دے گا جس کو قرآں میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فاذا الذی بینك و بينه عداوة كانه ولي حميم۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس کے بعد ان میں سے کوئی بھی کام نہ ہو سکا۔ کسی اعلان کرنے والے نے اس قسم کا اعلان نہیں کیا۔ ۱۹۵۳ کے بعد سے اب تک سینکڑوں کی تعداد میں مسلمانوں کے بڑے بڑے جلسے ہوئے۔ ان جلسوں میں پر جوش الفاظ میں یہ کہا گیا کہ اس ملک میں اسلام خطرہ میں ہے۔ مگر کسی بھی جلسہ میں مسلم رہنماؤں نے یہ زیادہ اہم بات نہیں بتائی کہ تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک میں اسلام پیش قدمی کی پوزیشن میں ہے۔ حتیٰ کہ یہاں کے باشندے اس فارسی شعر کا مصداق ہیں:
همه آہوان صحرا سر خود نهاده بر کف به امید آن که روزے بہ شکار خواہی آمد یہ فرق کیوں ہوا۔ یہ سوچ میں فرق کا نتیجہ تھا۔ اصل یہ ہے کہ سوچنے کے دو طریقے بالکل الگ
‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues