Al-Risala · June 2004 · page 22

سوچنے کا طریقہ

الرسالہ، جون ۲۰۰۴، صفحہ ۲۲

الگ ہیں۔ ایک ہے، فخر کے جذبہ کے تحت سوچنا اور دوسرا ہے، دعوت کے جذبہ کے تحت سوچنا۔ فخر کے جذبہ کے تحت سوچنے والوں کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ اپنی محبوب شخصیت کا کمال بتا کر مطمئن ہو جائیں اور اس کو بیان کر کے اپنے آپ کو خوش کرتے رہیں۔ سوچ کا دوسرا طریقہ وہ ہے جو دعوتی مقصد پر مبنی ہو۔ ایسے لوگ اس قسم کے معاملہ کو دعوتی امکان کے روپ میں لیں گے۔ وہ اس میں اپنے لیے مستقبل کا نقشہ کا ر دریافت کر لیں گے۔ اُن کی سوچ انہیں یہ بتائے گی کہ جب زیادہ دور رس کام کے مواقع ہوں تو چھوٹے چھوٹے کاموں میں وقت ضائع کرنا نادانی ہے۔ جب اسلام دلوں کو فتح کرنے کی پوزیشن میں ہو تو چھوٹی چھوٹی شکایتوں کو لے کر احتجاجی مہم چلانا صرف دیوانگی ہے۔ جب دین اسلام کے لیے نیا مستقبل پیدا کرنے کا موقع ہو تو شخصی کمال کو لے کر خوش ہونا اس شعر کا مصداق ہے کہ: تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا ورنہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی ہے ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہو رہا ہے۔ ایڈیشن کا نام دی اسپرچول میسج (The Spiritual Message) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے: دی اسپرچول میسج، فی کاپی 15/- روپے، سالانہ 165/- روپے خط و کتابت کا پتہ ہے:

The Spiritual Message, 302, Koldongri CHS Sahar Road, Andheri (East), Mumbai-400 099 (India) Tel.: 2834 1654/28346079/2821 8609, Fax: 2823 6323 Email: hbshaikh@bom5.vsnl.net.in

‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues

Printed page